Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آ کے ساحل کے قریں جاتا ہوں ساحل سے پرےآ کے منزل پر چلا جاتا ہوں منزل سے پرےDaud Ghazi (1932–1963)
  2. تمام وقت تمہیں سے کلام کرتے ہیںشب فراق کا یوں اہتمام کرتے ہیںDaud Ghazi (1932–1963)
  3. جب تصور میں کسی کو پاس پا لیتا ہوں میںاک نرالے کیف کو دل میں بسا لیتا ہوں میںDaud Ghazi (1932–1963)
  4. جذبۂ نو بھی تو ہے حسرت ناکام کے ساتھخواہش صبح ابھرتی تو ہے ہر شام کے ساتھDaud Ghazi (1932–1963)
  5. دن ہو یا رات ہم کو چلنا ہےہم کو چلنا ہے شب کو ڈھلنا ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  6. ستم کا خوف نہیں ہے الم کی بات نہیںرہ طلب میں کسی پیچ و خم کی بات نہیںDaud Ghazi (1932–1963)
  7. غم حیات میں جیسے بھی زندگی کی ہےتمہاری یاد تو لیکن کبھی کبھی کی ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  8. مزاج عالم امکاں ہے برہم دیکھیے کیا ہوستم کش پے بہ پے ہوتے ہیں باہم دیکھیے کیا ہوDaud Ghazi (1932–1963)
  9. اب کسے چارہ گر درد کہیںدرد ہوتا ہے ہر اک آن سواDaud Ghazi (1932–1963)
  10. اک لاش کو اک چوراہے پرکچھ لوگ کھڑے تھے گھیرے ہوئےDaud Ghazi (1932–1963)
  11. اک نئے دور کا آغاز ہوادر آشفتہ سری باز ہواDaud Ghazi (1932–1963)
  12. ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیںایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیںDaud Ghazi (1932–1963)
  13. تمہیں تو آئی ہو سج دھج کے جلوہ گر ہونےتمہیں کھڑی ہو لب بام دیکھتا ہوں میںDaud Ghazi (1932–1963)
  14. چار سو اک اداس منظر ہےزیست ہے جیسے ایک ویرانہDaud Ghazi (1932–1963)
  15. رات کے اندھیرے میں کتنے پاپ پلتے ہیںپوچھتا پھرے کوئی کس سے کون پاپی ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  16. زندگی کتنی ہے عجیب و غریبزندگی کیا ہے اک تماشا ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  17. زیست یوں ہی نہ رہے گی مغمومزندگانی کو بدلنا ہوگاDaud Ghazi (1932–1963)
  18. شاہد دہر کی تصویر بنانے والےاپنی تصویر کی جانب بھی ذرا ایک نظرDaud Ghazi (1932–1963)
  19. غم حیات کے نغموں کا میں مغنی ہوںغم حیات کی لذت کا ہوں میں شیدائیDaud Ghazi (1932–1963)
  20. کارواں بڑھتا رہا بڑھتا رہاپے بہ پے جادہ بہ جادہ اپنی منزل کی طرفDaud Ghazi (1932–1963)
  21. کنار آب سر شام آ کے بیٹھا ہوںنظر میں صبر سے بیگانہ اک سمندر ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  22. کون جانے کہ یہ خورشید ہے نا‌ خوب کہ خوبچاند اچھا کہ برا کون بتا سکتا ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  23. لوگ کہتے ہیں کہ یہ عالم ہے اک عالم نیاساز نو ہاتھوں میں ہے پیدا ہے زیر و بم نیاDaud Ghazi (1932–1963)
  24. میری محبوب یہ آنسو ہیں کہ موتی رخ پران کو اس طرح نہ بیکار گنوا مان بھی جاDaud Ghazi (1932–1963)
  25. میں بہت خوش ہوں کہ اس درجہ ملی دولت غماتنی دولت کہ گنی جائے نہ رکھی جائےDaud Ghazi (1932–1963)
  26. میں تو حیران ہوں کس طرح کٹے راہ حیاتاک نیا موڑ بہر گام ابھر آتا ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  27. نہ جانے کتنی صدیوں سے زمانہمثال موج بہتا آ رہا ہےDaud Ghazi (1932–1963)
  28. یاس خیز صبحوں سےبے سکون شاموں سےDaud Ghazi (1932–1963)
  29. یہ تہذیب آخر بنائی ہے کس نےزمانے کی عزت بڑھائی ہے کس نےDaud Ghazi (1932–1963)
  30. چمکمیرا تصورDaud Ghazi (1932–1963)
  31. جب انسان نے پڑھنا سیکھاپڑھنے لگا تہذیب کی آیتDaud Ghazi (1932–1963)