Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تکجانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تکDanish Farahi (1949–2023)
  2. دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتیتمہاری ہم پہ کرم کی نظر نہیں ہوتیDanish Farahi (1949–2023)
  3. دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلےلطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلےDanish Farahi (1949–2023)
  4. ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہےوفا شعار نہیں وہ وفا شناس تو ہےDanish Farahi (1949–2023)
  5. شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیامت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیاDanish Farahi (1949–2023)
  6. کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کروپتھر کو موم خون کو پانی لکھا کروDanish Farahi (1949–2023)
  7. کس قدر اضطراب ہے یاروزندگی اک عذاب ہے یاروDanish Farahi (1949–2023)
  8. نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کومیں جانتا ہوں بہت عقل کے فسانے کوDanish Farahi (1949–2023)
  9. نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہتم اسے خزاں کہو گے کہ بہار کا زمانہDanish Farahi (1949–2023)