Poetry
- حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تکجانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تکDanish Farahi (1949–2023)
- دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتیتمہاری ہم پہ کرم کی نظر نہیں ہوتیDanish Farahi (1949–2023)
- دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلےلطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلےDanish Farahi (1949–2023)
- ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہےوفا شعار نہیں وہ وفا شناس تو ہےDanish Farahi (1949–2023)
- شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیامت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیاDanish Farahi (1949–2023)
- کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کروپتھر کو موم خون کو پانی لکھا کروDanish Farahi (1949–2023)
- کس قدر اضطراب ہے یاروزندگی اک عذاب ہے یاروDanish Farahi (1949–2023)
- نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کومیں جانتا ہوں بہت عقل کے فسانے کوDanish Farahi (1949–2023)
- نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہتم اسے خزاں کہو گے کہ بہار کا زمانہDanish Farahi (1949–2023)