Poetry
- بھول کر پہلوئے امید میں آیا نہ گیاجو پتا ہم کو بتایا تھا وہ پایا نہ گیاعبد الہادی وفا
- بے کسی نے گھر بنایا میرے گھر کے سامنےرو رہا ہوں بیٹھ کر دیوار و در کے سامنےعبد الہادی وفا
- پھر رگ شعلۂ جاں سوز میں نشتر گزرانالہ کیوں آبلۂ دل سے الجھ کر گزراعبد الہادی وفا
- حیرت کو مژدہ گرم ہے بازار آئینہخوبان خود نما ہیں خریدار آئینہعبد الہادی وفا
- دل میں رہ کر چھپا کرے کوئیآنکھ بن کر حیا کرے کوئیعبد الہادی وفا
- دو جہاں کو نگہ عجز سے اکثر دیکھاہم نے امید کو حرماں کے برابر دیکھاعبد الہادی وفا
- کام آساں نظر آیا مجھے مشکل ہو کرحاصل عمر ملا حسرت حاصل ہو کرعبد الہادی وفا
- کیا گزر کیجئے صیاد دل آزار کے پاسبرگ گل پھینکتا ہے مرغ گرفتار کے پاسعبد الہادی وفا
- نہ ہوا پر نہ ہوا وہ بت خود سر اپناتجھ سے انصاف ہے اے داور محشر اپناعبد الہادی وفا
- ہاں درد نہاں رنگ کی تعبیر سے پوچھودل پر جو لگی چوٹ وہ تاثیر سے پوچھوعبد الہادی وفا
- ہر ایک کو ہر مرتبہ حاصل نہیں ہوتاآئینہ سکندر کے مقابل نہیں ہوتاعبد الہادی وفا
- پھر حشر کے پردہ میں تقدیر نظر آئیآئینۂ وحشت میں تصویر نظر آئیعبد الہادی وفا
- وہ ساغر شباب چھلکتا ہوا ہے کیاآنکھوں سے یہ تراوش رنگ ادا ہے کیاعبد الہادی وفا