Poetry
- اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میںخوشی کے پھول بھی تو ہیں اسی کے دامن میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیںیہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- جنوں بغیر کبھی آگہی نہیں ہوتیجلے نہ شمع تو کچھ روشنی نہیں ہوتیBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہےالفت کا تقاضا بھی یہی کم سخنی ہےBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھاور ہم دیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- گلوں کے دام محبت میں آ رہا ہوں میںفریب حسن مجازی کا کھا رہا ہوں میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- ہم بھی سنتے جو ترے حسن کے چرچے ہوتےکاش اس وقت تری بزم میں بیٹھے ہوتےBaldev singh Hamdam (b. 1922)