Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میںخوشی کے پھول بھی تو ہیں اسی کے دامن میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  2. تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیںیہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  3. جنوں بغیر کبھی آگہی نہیں ہوتیجلے نہ شمع تو کچھ روشنی نہیں ہوتیBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  4. جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہےالفت کا تقاضا بھی یہی کم سخنی ہےBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  5. روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھاور ہم دیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  6. گلوں کے دام محبت میں آ رہا ہوں میںفریب حسن مجازی کا کھا رہا ہوں میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  7. ہم بھی سنتے جو ترے حسن کے چرچے ہوتےکاش اس وقت تری بزم میں بیٹھے ہوتےBaldev singh Hamdam (b. 1922)