Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کیسب ہے قدرت داور دوار کیBahram ji (1828–1895)
  2. جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہےکوچۂ جاناں میں ہم ہیں قیس بن میں مست ہےBahram ji (1828–1895)
  3. دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیںپر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیںBahram ji (1828–1895)
  4. دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرحآج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرحBahram ji (1828–1895)
  5. رکھا سر پر جو آیا یار کا خطگیا سب درد سر کیا تھا دوا خطBahram ji (1828–1895)
  6. غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیںآباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیںBahram ji (1828–1895)
  7. کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبثعشق ہے اس گلشن و گل زار کا فعل عبثBahram ji (1828–1895)
  8. کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہےجس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہےBahram ji (1828–1895)
  9. کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بندمرا ہو کس طرح سے درد سر بندBahram ji (1828–1895)
  10. ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہےحسرت و آرزوئے جلوۂ جاناں میں رہےBahram ji (1828–1895)
  11. ہو چکا وعظ کا اثر واعظاب تو رندوں سے در گزر واعظBahram ji (1828–1895)
  12. یار کو ہم نے برملا دیکھاآشکارا کہیں چھپا دیکھاBahram ji (1828–1895)
  13. زاہدا کعبے کو جاتا ہے تو کر یاد خداپھر جہازوں میں خیال ناخدا کرتا ہے کیوںBahram ji (1828–1895)