Poetry
- بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کیسب ہے قدرت داور دوار کیBahram ji (1828–1895)
- جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہےکوچۂ جاناں میں ہم ہیں قیس بن میں مست ہےBahram ji (1828–1895)
- دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیںپر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیںBahram ji (1828–1895)
- دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرحآج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرحBahram ji (1828–1895)
- رکھا سر پر جو آیا یار کا خطگیا سب درد سر کیا تھا دوا خطBahram ji (1828–1895)
- غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیںآباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیںBahram ji (1828–1895)
- کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبثعشق ہے اس گلشن و گل زار کا فعل عبثBahram ji (1828–1895)
- کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہےجس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہےBahram ji (1828–1895)
- کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بندمرا ہو کس طرح سے درد سر بندBahram ji (1828–1895)
- ہم نہ بت خانے میں نے مسجد ویراں میں رہےحسرت و آرزوئے جلوۂ جاناں میں رہےBahram ji (1828–1895)
- ہو چکا وعظ کا اثر واعظاب تو رندوں سے در گزر واعظBahram ji (1828–1895)
- یار کو ہم نے برملا دیکھاآشکارا کہیں چھپا دیکھاBahram ji (1828–1895)
- زاہدا کعبے کو جاتا ہے تو کر یاد خداپھر جہازوں میں خیال ناخدا کرتا ہے کیوںBahram ji (1828–1895)