Poetry
- اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھامیں اس کے واسطے کس وقت بے قرار نہ تھاآسی غازی پوری
- ایک جلوے کی ہوس وہ دم رحلت بھی نہیںکچھ محبت نہیں ظالم تو مروت بھی نہیںآسی غازی پوری
- اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئیپھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئیآسی غازی پوری
- پھر مزاج اس رند کا کیونکر ملےجس کو اس کے ہاتھ سے ساغر ملےآسی غازی پوری
- تاب دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینامنہ قیامت میں دکھا سکنے کے قابل دیناآسی غازی پوری
- ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوںمگر غیر کا نقش پا چاہتا ہوںآسی غازی پوری
- حرص دولت کی نہ عز و جاہ کیبس تمنا ہے دل آگاہ کیآسی غازی پوری
- روش اس چال میں تلوار کی ہےموت عشاق گنہ گار کی ہےآسی غازی پوری
- سارے عالم میں تیری خوشبو ہےاے میرے رشک گل کہاں تو ہےآسی غازی پوری
- قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسےیعنی وہ میں ہی کیوں نہ ہوں تجھ سا کہیں جسےآسی غازی پوری
- کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیےچاہنے والے کو چاہا کیجیےآسی غازی پوری
- کلیجا منہ کو آتا ہے شب فرقت جب آتی ہےاکیلے منہ لپیٹے روتے روتے جان جاتی ہےآسی غازی پوری
- نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پرکرم کرے وہ نشان قدم تو پتھر پرآسی غازی پوری
- وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعدکہ تیرے نام کی رٹ ہے خدا کے نام کے بعدآسی غازی پوری
- اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوااور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہواآسی غازی پوری
- زخم دل ہم دکھا نہیں سکتےدل کسی کا دکھا نہیں سکتےآسی غازی پوری
- وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہےنہ دیکھے تجھے کوئی اندھا نہیں ہےآسی غازی پوری
- ہزاروں کی جان لے چکا ہے یہ چہرہ زیر نقاب ہو کرمگر قیامت کرو گے برپا جو نکلو گے بے حجاب ہو کرآسی غازی پوری