Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھامیں اس کے واسطے کس وقت بے قرار نہ تھاآسی غازی پوری
  2. ایک جلوے کی ہوس وہ دم رحلت بھی نہیںکچھ محبت نہیں ظالم تو مروت بھی نہیںآسی غازی پوری
  3. اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئیپھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئیآسی غازی پوری
  4. پھر مزاج اس رند کا کیونکر ملےجس کو اس کے ہاتھ سے ساغر ملےآسی غازی پوری
  5. تاب دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینامنہ قیامت میں دکھا سکنے کے قابل دیناآسی غازی پوری
  6. ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوںمگر غیر کا نقش پا چاہتا ہوںآسی غازی پوری
  7. حرص دولت کی نہ عز و جاہ کیبس تمنا ہے دل آگاہ کیآسی غازی پوری
  8. روش اس چال میں تلوار کی ہےموت عشاق گنہ گار کی ہےآسی غازی پوری
  9. سارے عالم میں تیری خوشبو ہےاے میرے رشک گل کہاں تو ہےآسی غازی پوری
  10. قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسےیعنی وہ میں ہی کیوں نہ ہوں تجھ سا کہیں جسےآسی غازی پوری
  11. کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیےچاہنے والے کو چاہا کیجیےآسی غازی پوری
  12. کلیجا منہ کو آتا ہے شب فرقت جب آتی ہےاکیلے منہ لپیٹے روتے روتے جان جاتی ہےآسی غازی پوری
  13. نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پرکرم کرے وہ نشان قدم تو پتھر پرآسی غازی پوری
  14. وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعدکہ تیرے نام کی رٹ ہے خدا کے نام کے بعدآسی غازی پوری
  15. اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوااور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہواآسی غازی پوری
  16. زخم دل ہم دکھا نہیں سکتےدل کسی کا دکھا نہیں سکتےآسی غازی پوری
  17. وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہےنہ دیکھے تجھے کوئی اندھا نہیں ہےآسی غازی پوری
  18. ہزاروں کی جان لے چکا ہے یہ چہرہ زیر نقاب ہو کرمگر قیامت کرو گے برپا جو نکلو گے بے حجاب ہو کرآسی غازی پوری