Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پھوٹ کر روؤں نہ کیوں میں خواب کی تعبیر پرخون کے دیکھے ہیں قطرے آج پھر زنجیر پرAadil Farhat (b. 1984)
  2. تیرے پیاسوں کو سزا دی گئی ہےتشنگی اور بڑھا دی گئی ہےAadil Farhat (b. 1984)
  3. خود اداسی میں تو اپنی یہ کمی رکھی ہےساتھ جب تک ہے وہ چہرے پہ ہنسی رکھی ہےAadil Farhat (b. 1984)
  4. سارے عالم کا یہی ارمان ہونا چاہئےتو نہیں تو یہ جہاں ویران ہونا چاہئےAadil Farhat (b. 1984)
  5. سچ ہوا خواب تو تعبیر نہیں کھینچ سکامیں ترے جسم پہ تحریر نہیں کھینچ سکاAadil Farhat (b. 1984)
  6. کبھی سکون کبھی ہم گھٹن کی نذر ہوئےہم ایسے لوگ تو اپنے ہی من کی نذر ہوئےAadil Farhat (b. 1984)
  7. کوئی کمال ہوا پھر نہ اس کمال کے بعدکہ ایک شخص نہ بھایا ترے وصال کے بعدAadil Farhat (b. 1984)
  8. میں جل گیا تھا جسے راستہ دکھاتے ہوئےاسے ترس نہیں آیا مجھے بجھاتے ہوئےAadil Farhat (b. 1984)