Poetry
- پھوٹ کر روؤں نہ کیوں میں خواب کی تعبیر پرخون کے دیکھے ہیں قطرے آج پھر زنجیر پرAadil Farhat (b. 1984)
- تیرے پیاسوں کو سزا دی گئی ہےتشنگی اور بڑھا دی گئی ہےAadil Farhat (b. 1984)
- خود اداسی میں تو اپنی یہ کمی رکھی ہےساتھ جب تک ہے وہ چہرے پہ ہنسی رکھی ہےAadil Farhat (b. 1984)
- سارے عالم کا یہی ارمان ہونا چاہئےتو نہیں تو یہ جہاں ویران ہونا چاہئےAadil Farhat (b. 1984)
- سچ ہوا خواب تو تعبیر نہیں کھینچ سکامیں ترے جسم پہ تحریر نہیں کھینچ سکاAadil Farhat (b. 1984)
- کبھی سکون کبھی ہم گھٹن کی نذر ہوئےہم ایسے لوگ تو اپنے ہی من کی نذر ہوئےAadil Farhat (b. 1984)
- کوئی کمال ہوا پھر نہ اس کمال کے بعدکہ ایک شخص نہ بھایا ترے وصال کے بعدAadil Farhat (b. 1984)
- میں جل گیا تھا جسے راستہ دکھاتے ہوئےاسے ترس نہیں آیا مجھے بجھاتے ہوئےAadil Farhat (b. 1984)