وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے

Ameer Minai (1829–1900)

وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے

آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے