Poetry
- اپنے فون پہ اپنا نمبربار بار ڈائل کرتی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
- اس نے میرے ہاتھ میں باندھااجلا کنگن بیلے کاParveen Shakir (1952–1994)
- اندیشوں کے دروازوں پرکوئی نشان لگاتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- تمہارا کہنا ہےتم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہوParveen Shakir (1952–1994)
- جانمجھے افسوس ہےParveen Shakir (1952–1994)
- دل آزاری بھی اک فن ہےاور کچھ لوگ توParveen Shakir (1952–1994)
- رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہاآج سے تم آزاد ہوParveen Shakir (1952–1994)
- سات سہاگنیں اور میری پیشانی!صندل کی تحریرParveen Shakir (1952–1994)
- سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افرادParveen Shakir (1952–1994)
- کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاںنرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئیParveen Shakir (1952–1994)
- گڑیا سی یہ لڑکیجس کی اجلی ہنسی سےParveen Shakir (1952–1994)
- گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہدور دیس سےParveen Shakir (1952–1994)
- لڑکی!یہ لمحے بادل ہیںParveen Shakir (1952–1994)
- مجھے مت بتاناکہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھاParveen Shakir (1952–1994)
- مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- مصاحب شاہ سے کہو کہفقیہہ اعظم بھی آج تصدیق کر گئے ہیںParveen Shakir (1952–1994)
- میں نے ساری عمرکسی مندر میں قدم نہیں رکھاParveen Shakir (1952–1994)
- نہیں میرا آنچل میلا ہےاور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیںParveen Shakir (1952–1994)
- وہ ایک لڑکیکہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
- وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےParveen Shakir (1952–1994)
- اس کے یوں ترک محبت کا سبب ہوگا کوئیجی نہیں یہ مانتا وہ بے وفا پہلے سے تھاParveen Shakir (1952–1994)
- اس نے مجھے دراصل کبھی چاہا ہی نہیں تھاخود کو دے کر یہ بھی دھوکا، دیکھ لیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- بارہا تیرا انتظار کیااپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
- بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکنوہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لئےParveen Shakir (1952–1994)
- پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہےپھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
- تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوںالجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھرParveen Shakir (1952–1994)
- تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیںاپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیںParveen Shakir (1952–1994)
- تیرے تحفے تو سب اچھے ہیں مگر موج بہاراب کے میرے لیے خوشبوئے حنا آئی ہوParveen Shakir (1952–1994)
- دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہحیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہParveen Shakir (1952–1994)
- رخصت کرنے کے آداب نبھانے ہی تھےبند آنکھوں سے اس کو جاتا دیکھ لیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- رستہ میں مل گیا تو شریک سفر نہ جانجو چھاؤں مہرباں ہو اسے اپنا گھر نہ جانParveen Shakir (1952–1994)
- ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہراخامشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
- ہاتھ میرے بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فنبند مجھ پر جب سے اس کے گھر کا دروازہ ہواParveen Shakir (1952–1994)
- ہتھیلیوں کی دعا پھول بن کے آئی ہوکبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حنائی ہوParveen Shakir (1952–1994)
- یوں دیکھنا اس کو کہ کوئی اور نہ دیکھےانعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھیParveen Shakir (1952–1994)