Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنے فون پہ اپنا نمبربار بار ڈائل کرتی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
  2. اس نے میرے ہاتھ میں باندھااجلا کنگن بیلے کاParveen Shakir (1952–1994)
  3. اندیشوں کے دروازوں پرکوئی نشان لگاتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  4. تمہارا کہنا ہےتم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہوParveen Shakir (1952–1994)
  5. جانمجھے افسوس ہےParveen Shakir (1952–1994)
  6. دل آزاری بھی اک فن ہےاور کچھ لوگ توParveen Shakir (1952–1994)
  7. رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہاآج سے تم آزاد ہوParveen Shakir (1952–1994)
  8. سات سہاگنیں اور میری پیشانی!صندل کی تحریرParveen Shakir (1952–1994)
  9. سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افرادParveen Shakir (1952–1994)
  10. کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاںنرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئیParveen Shakir (1952–1994)
  11. گڑیا سی یہ لڑکیجس کی اجلی ہنسی سےParveen Shakir (1952–1994)
  12. گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہدور دیس سےParveen Shakir (1952–1994)
  13. لڑکی!یہ لمحے بادل ہیںParveen Shakir (1952–1994)
  14. مجھے مت بتاناکہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھاParveen Shakir (1952–1994)
  15. مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  16. مصاحب شاہ سے کہو کہفقیہہ اعظم بھی آج تصدیق کر گئے ہیںParveen Shakir (1952–1994)
  17. میں نے ساری عمرکسی مندر میں قدم نہیں رکھاParveen Shakir (1952–1994)
  18. نہیں میرا آنچل میلا ہےاور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیںParveen Shakir (1952–1994)
  19. وہ ایک لڑکیکہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
  20. وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےParveen Shakir (1952–1994)
  21. اس کے یوں ترک محبت کا سبب ہوگا کوئیجی نہیں یہ مانتا وہ بے وفا پہلے سے تھاParveen Shakir (1952–1994)
  22. اس نے مجھے دراصل کبھی چاہا ہی نہیں تھاخود کو دے کر یہ بھی دھوکا، دیکھ لیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  23. بارہا تیرا انتظار کیااپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
  24. بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکنوہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لئےParveen Shakir (1952–1994)
  25. پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہےپھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
  26. تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوںالجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھرParveen Shakir (1952–1994)
  27. تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیںاپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیںParveen Shakir (1952–1994)
  28. تیرے تحفے تو سب اچھے ہیں مگر موج بہاراب کے میرے لیے خوشبوئے حنا آئی ہوParveen Shakir (1952–1994)
  29. دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہحیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہParveen Shakir (1952–1994)
  30. رخصت کرنے کے آداب نبھانے ہی تھےبند آنکھوں سے اس کو جاتا دیکھ لیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  31. رستہ میں مل گیا تو شریک سفر نہ جانجو چھاؤں مہرباں ہو اسے اپنا گھر نہ جانParveen Shakir (1952–1994)
  32. ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہراخامشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
  33. ہاتھ میرے بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فنبند مجھ پر جب سے اس کے گھر کا دروازہ ہواParveen Shakir (1952–1994)
  34. ہتھیلیوں کی دعا پھول بن کے آئی ہوکبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حنائی ہوParveen Shakir (1952–1994)
  35. یوں دیکھنا اس کو کہ کوئی اور نہ دیکھےانعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھیParveen Shakir (1952–1994)