Poetry
- گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپناقید خانہ ہے عجب گنبد بے در اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گاہاں مگر دشت عدم ہی کو نکل جاؤں گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہرنہیں لگتی مری تالو سے زباں آٹھ پہرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- مثل آئینہ با صفا ہیں ہمدیکھنے ہی کے آشنا ہیں ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگارہتا ہوں روز و شب میں اسی گھات میں لگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے اوں ہوںدیکھ ٹک آنکھ چرا کر تو لگا کہنے اوں ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوازور یہ پر درد اپنا مطلع دیواں ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایاشرارت سے جی جس نے میرا جلایاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھاصبح تک یاد تھی اور رونا تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کردو دن کے واسطے ہو کوئی خراب کیوں کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیںواں لگا دل جہاں لگاؤ نہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ہر چند بھرے دل میں ہیں لاکھوں ہی گلے پرکیا کہئے کہ کھلتا نہیں منہ وقت ملے پرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیںرہ نہیں سکتے تو ناچار چلے آتے ہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ہمیں دیکھے سے وہ جیتا ہے اور ہم اس پہ مرتے تھےیہی راتیں تھیں اور باتیں تھیں وہ دن کیا گزرتے تھےQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ہے تیری ہی کائنات جی میںجی تجھ سے ہے تیری ذات جی میںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ہے یہ گل کی اور اس کی آب میں فرقجیسے پانی میں اور گلاب میں فرقQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاںکاٹتے ہیں رو ہی رو ساون کی راتیں کالیاںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسراہاں کچھ جو ہے تو روضۂ رضواں ہے دوسراQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گامحشر میں خوں ہمارا معلوم ہو رہے گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیںسو الفت ہی کے سب فسانے بندھے ہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- بقول سوز جرأتؔ کیا کہیں ہم فکر کو اپنیہمارا شعر ہے گا بادۂ وحدت کا پیمانہQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- الفت سے ہو خاک ہم کو لہناقسمت میں تو ہے عذاب سہناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جب میں نے کہا اے بت خودکام ورے آتب کہنے لگا چل بے او بد نام پرے جاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جو روئیں درد دل سے تلملا کرتو وہ ہنستا ہے کیا کیا کھلکھلا کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- سنو بات اس کی الفت کا بڑھانا اس کو کہتے ہیںکہا شب خواب میں آ کر کہ آنا اس کو کہتے ہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- شب وصل دیکھی جو خواب میں تو سحر کو سینہ فگار تھایہی بس خیال تھا دم بہ دم کہ ابھی تو پاس وہ یار تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بنلگتا نہیں ہے جی کہیں لگا لگائے بنQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جالے، چلے ہم جان سے، مختار ہے اب جا نہ جاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہواچمپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوااٹھ چلا دنیا سے کیوں تو تجھ کو اے دل کیا ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)