Poetry
- وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیںاب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کاموسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارتکافی ہے مرے نالے کو بلبل کی اشارتMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرستپوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرستMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دےدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردشدریا میں ہو جس طرح سے گرداب کی گردشMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- اے شیخ حرم تک تجھے آنا جانایہ طوف جلاہے کاہے تانا باناMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ شعر میں ہے بڑائی تجھ کوتشریف سخن عرش سے آئی تجھ کوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کوتاہ نہ عمر مے پرستی کیجےزلفوں سے تری دراز دستی کیجےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- گر یار کے سامنے میں رویا تو کیامژگاں میں جو لخت دل پرویا تو کیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- نعت حضرت رسالت علیہ السلامMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- اکیلا ہو رہ دنیا میں گر چاہے بہت جیناہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- بادشاہت دو جہاں کی بھی جو ہووے مجھ کوتیرے کوچے کی گدائی سے نہ کھو دے مجھ کوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرےاپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ترا خط آنے سے دل کو میرے آرام کیا ہوگاخدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گےیہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- دکھاؤں گا تجھے زاہد اس آفت دیں کوخلل دماغ میں تیرے ہے پارسائی کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- دل کے ٹکڑوں کو بغل گیر لئے پھرتا ہوںکچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- زاہد سبھی ہیں نعمت حق جو ہے اکل و شربلیکن عجب مزہ ہے شراب و کباب کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ساقی گئی بہار رہی دل میں یہ ہوستو منتوں سے جام دے اور میں کہوں کہ بسMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سمجھے تھے ہم جو دوست تجھے اے میاں غلطتیرا نہیں ہے جرم ہمارا گماں غلطMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ جو بے خبر ہے وہی یاں کرے ہے عیشمشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ جہاں میں آ کے کوئی کچھ نہ لے گیاجاتا ہوں ایک میں دل پر آرزو لیےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصراپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ کی جو بالیں پہ گیا شور قیامتخدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ ہوئے جب عاشق کیا پاس آبرو کاسنتا ہے اے دوانے جب دل دیا تو پھر کیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- عبث تو گھر بساتا ہے مری آنکھوں میں اے پیارےکسی نے آج تک دیکھا بھی ہے پانی پہ گھر ٹھہراMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- عشق سے تو نہیں ہوں میں واقفدل کو شعلہ سا کچھ لپٹتا ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- فکر معاش عشق بتاں یاد رفتگاںاس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کون کسی کا غم کھاتا ہےکہنے کو غم خوار ہے دنیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کہیو صبا سلام ہمارا بہار سےہم تو چمن کو چھوڑ کے سوئے قفس چلےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کیا کروں گا لے کے واعظ ہاتھ سے حوروں کے جامہوں میں ساغر کش کسی کے ساغر مخمور کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- گر ہو شراب و خلوت و محبوب خوب روزاہد قسم ہے تجھ کو جو تو ہو تو کیا کرےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- گلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کالہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- مت پوچھ یہ کہ رات کٹی کیونکے تجھ بغیراس گفتگو سے فائدہ پیارے گزر گئیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- میں نے تم کو دل دیا اور تم نے مجھے رسوا کیامیں نے تم سے کیا کیا اور تم نے مجھ سے کیا کیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- نہ جیا تیری چشم کا مارانہ تری زلف کا بندھا چھوٹاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کامحبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- نہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اس کو نہ دیکھا ہوکنھیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ہے مدتوں سے خانۂ زنجیر بے صدامعلوم ہی نہیں کہ دوانے کدھر گئےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- یارو وہ شرم سے جو نہ بولا تو کیا ہواآنکھوں میں سو طرح کی حکایات ہو گئیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- یہ تو نہیں کہتا ہوں کہ سچ مچ کرو انصافجھوٹی بھی تسلی ہو تو جیتا ہی رہوں میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)