Poetry
- اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دوچلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دوZafar Hameedi (b. 1926)
- تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتاپیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتاZafar Hameedi (b. 1926)
- جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میںزلف کی لہریں پیچاں جیسے ناگ ہو لپکا پانی میںZafar Hameedi (b. 1926)
- کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میںورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میںZafar Hameedi (b. 1926)
- میرے نازک سوال میں اتروایک حرف جمال میں اتروZafar Hameedi (b. 1926)
- میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوںپھر اک جدید خاکہ ترتیب دے رہا ہوںZafar Hameedi (b. 1926)
- بادلوں نے آج برسایا لہوامن کا ہر فاختہ رونے لگاZafar Hameedi (b. 1926)
- جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگااور جب تنہا ہوا رونے لگاZafar Hameedi (b. 1926)