Poetry
- جب ایک خوف سا مرنے کا سر پہ بیٹھ گیاعجیب سایہ نحوست کا گھر پہ بیٹھ گیاYasmeen Sahar (b. 1968)
- خیال اندر ہی اندر مر گیا ہےترا غم مجھ کو پاگل کر گیا ہےYasmeen Sahar (b. 1968)
- دھواں اڑاتی ہوئی دھیمی دھیمی بارش ہےہوا کی اندھی سواری پہ اندھی بارش ہےYasmeen Sahar (b. 1968)
- سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوںبڑی مشکل سے میں کردار کے اندر سے نکلی ہوںYasmeen Sahar (b. 1968)
- قطار جگنوؤں کی روشنی لٹاتی رہیمیں رنگ گوندھ کے تتلی کے پر بناتی رہیYasmeen Sahar (b. 1968)
- کچھ اس پہ سوچنا تھا مشورہ بھی کرنا تھامعاملے پہ ابھی تبصرہ بھی کرنا تھاYasmeen Sahar (b. 1968)
- مجھ پہ ٹوٹی جو سیہ رات بتانے کی نہیںیعنی یہ گردش حالات بتانے کی نہیںYasmeen Sahar (b. 1968)
- میرے لفظوں سے چلی بات مرے لفظوں کیطے ہوئی مجھ سے ملاقات مرے لفظوں کیYasmeen Sahar (b. 1968)