Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیاایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیاYaseen Afzal (b. 1949)
  2. پلکوں پہ رکا قطرۂ‌ مضطر کی طرح ہوںباہر سے بھی بے چین میں اندر کی طرح ہوںYaseen Afzal (b. 1949)
  3. ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہاکتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہاYaseen Afzal (b. 1949)
  4. ریت کے اک شہر میں آباد ہیں در در کے لوگبے زمیں بے آسماں بے پاؤں کے بے سر کے لوگYaseen Afzal (b. 1949)
  5. زخم میرے دل پہ اک ایسا لگااپنی جاں کا روح کو دھڑکا لگاYaseen Afzal (b. 1949)
  6. نشاط اس نے عجب قرب کی نچھاور کیکھڑی تھی بیچ میں دیوار دل کے اندر کیYaseen Afzal (b. 1949)
  7. سیاہ رات کا بادل سروں سے چھٹتے ہیمرے دریچے کے ننگے سفید شیشے پرYaseen Afzal (b. 1949)
  8. زندگی کے ایسے دوراہے پر آ کر رک گیا ہوںہر مسافرYaseen Afzal (b. 1949)