Poetry
- بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیاایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیاYaseen Afzal (b. 1949)
- پلکوں پہ رکا قطرۂ مضطر کی طرح ہوںباہر سے بھی بے چین میں اندر کی طرح ہوںYaseen Afzal (b. 1949)
- ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہاکتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہاYaseen Afzal (b. 1949)
- ریت کے اک شہر میں آباد ہیں در در کے لوگبے زمیں بے آسماں بے پاؤں کے بے سر کے لوگYaseen Afzal (b. 1949)
- زخم میرے دل پہ اک ایسا لگااپنی جاں کا روح کو دھڑکا لگاYaseen Afzal (b. 1949)
- نشاط اس نے عجب قرب کی نچھاور کیکھڑی تھی بیچ میں دیوار دل کے اندر کیYaseen Afzal (b. 1949)
- سیاہ رات کا بادل سروں سے چھٹتے ہیمرے دریچے کے ننگے سفید شیشے پرYaseen Afzal (b. 1949)
- زندگی کے ایسے دوراہے پر آ کر رک گیا ہوںہر مسافرYaseen Afzal (b. 1949)