نشاط اس نے عجب قرب کی نچھاور کی

Yaseen Afzal (b. 1949)

نشاط اس نے عجب قرب کی نچھاور کی

کھڑی تھی بیچ میں دیوار دل کے اندر کی

میں کرچیوں کی چبھن عمر بھر سمیٹوں گا

کہ دل نے شیشے پہ کھائی ہے چوٹ پتھر کی

حنائی شام در و بام تپ سے جاتے ہیں

کہاں اتارنے جاؤں تھکان دن بھر کی

کھڑی ہوئی مرے چاروں طرف ہیں دیواریں

نکل کے جائے گھٹن کس طرف سے اندر کی

میں جگنوؤں کے تعاقب میں صبح تک بھاگا

نظر میں پھیلی رہی تیرگی مقدر کی

ہوا کے ساتھ اترتی نہیں نشیبوں میں

زمیں سے کتنی ہے اونچی سطح سمندر کی