Poetry
- جاگے ضمیر ذہن کھلے تازگی ملےچھوٹے گہن کہ مجھ کو مری روشنی ملےYaqoob Rahi (b. 1943)
- خود پہ الزام کیوں دھرو بابازندگی موت ہے مرو باباYaqoob Rahi (b. 1943)
- خون کی ایک ندی اور بہے گی شایدجنگ جاری ہے تو جاری ہی رہے گی شایدYaqoob Rahi (b. 1943)
- درد اس کا ابھر رہا ہوگاسارا نشہ اتر رہا ہوگاYaqoob Rahi (b. 1943)
- زندگی دشت بلا ہو جیسےتجھ کو پانے کی سزا ہو جیسےYaqoob Rahi (b. 1943)
- سرخ لاوے کی طرح تپ کے نکھرنا سیکھوسوکھی دھرتی کی دراروں سے ابھرنا سیکھوYaqoob Rahi (b. 1943)
- کوئی بادل تپش غم سے پگھلتا ہی نہیںاور دل ہے کہ کسی طرح بہلتا ہی نہیںYaqoob Rahi (b. 1943)
- کوئی بے نام خلش اکسائےکیا ضروری ہے تری یاد آئےYaqoob Rahi (b. 1943)
- مشاہدہ نہ کوئی تجربہ نہ خواب کوئیتمام شعر و سخن حرف اجتناب کوئیYaqoob Rahi (b. 1943)
- ہوائے صبح نمو دشمن چمن کیسےشکار رشک و رقابت گل و سمن کیسےYaqoob Rahi (b. 1943)
- تیرا احساس ہےکہ صحن خموشی میں ابھرتی ہوئیYaqoob Rahi (b. 1943)
- یہ تند و تیز ہواتری گلی مرے جنگل کو جو ملاتی ہےYaqoob Rahi (b. 1943)
- گزشتہ راتمیں خوابوں کی دنیا سےYaqoob Rahi (b. 1943)
- لفظ و معنی میںسنگھرش جاری ہےYaqoob Rahi (b. 1943)
- اپنی تعبیر کے صحرا میںجلے خوابوں کیYaqoob Rahi (b. 1943)
- جب بھی دھرتی کا کوئی حصہتمہیں چپ سا دکھائی دے تو اس کی خامشی کوYaqoob Rahi (b. 1943)
- رات بھراس خریدے ہوئے جسم سےYaqoob Rahi (b. 1943)
- صبح سورج کی کرنکوچہ کوچہ تری امید میں بھٹکاتی ہےYaqoob Rahi (b. 1943)