Poetry
- آزمائشیں ڈھیروں تجربے ہزاروں ہیںصبح عشق کے پیچھے رت جگے ہزاروں ہیںVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- توڑنا چاہتے تھے پہ ٹوٹا نہیںدل مرا کوئی مٹی کا مٹکا نہیںVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- جسے ہم ڈھونڈتے پھرتے رہے ہر ایک محفل میںشراب عشق وہ ہم کو ملی میخانۂ دل میںVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- حجاب میں حبیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہےکہ سامنے رقیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہےVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- کہاں اے پردہ نشیں خود کو چھپایا ہوا ہےتیرا دیوانہ ترے شہر میں آیا ہوا ہےVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- ہم ہیں بنیاد تو ہر شخص منارے جیساہم کو ملتا ہی نہیں کوئی ہمارے جیساVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- اک پنگھٹ ہے دنیا یارواور ہم سب پیاس کے مارے لوگVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)