جسے ہم ڈھونڈتے پھرتے رہے ہر ایک محفل میں
Vakeel Ahmad Hayat (b. 2001)جسے ہم ڈھونڈتے پھرتے رہے ہر ایک محفل میں
شراب عشق وہ ہم کو ملی میخانۂ دل میں
یہ آنکھیں جب بھی روتی ہیں بھگو دیتی ہیں عارض کو
بڑا گہرا تعلق ہے سمندر اور ساحل میں
جہاں پر عدل کا پرچم ہر اک پرچم سے اونچا ہو
سمجھ لینا وہی بہتر قبیلہ ہے قبائل میں
مجھے تو شاعری کرنے کی بھی فرصت نہیں ملتی
الجھ جاتا ہوں اکثر میں ریاضی کے مسائل میں
ہمیں نے دیکھی ہے تاریخ کی سب سے بری ہجرت
دلوں سے لوگ نکلے اور بسے جا کر موبائل میں
جو یہ کہتے ہیں ہم نے تو قیامت کو نہیں دیکھا
حیاتؔ ان سے یہ کہتا ہے کبھی جھانکو مرے دل میں