Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آئینۂ وحشت کو جلا جس سے ملی ہےوہ گرد رہ ترک مراسم سے اٹھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
  2. اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہےکوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
  3. تم ہو جو کچھ کہاں چھپاؤ گےلکھنے والو نظر تو آؤ گےUmmeed Fazli (1923–2005)
  4. جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اتر گیاپرچھائیں زندہ رہ گئی انسان مر گیاUmmeed Fazli (1923–2005)
  5. حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیںشریک عشق کہیں کوئی آرزو تو نہیںUmmeed Fazli (1923–2005)
  6. خواب آنکھوں میں سجائے رکھناعزم کے دیپ جلائے رکھناUmmeed Fazli (1923–2005)
  7. کب تک اس پیاس کے صحرا میں جھلستے جائیںاب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیںUmmeed Fazli (1923–2005)
  8. کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کیکہ رات سن نہ سکے ہم بھی دھڑکنیں دل کیUmmeed Fazli (1923–2005)
  9. مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلےہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلےUmmeed Fazli (1923–2005)
  10. ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سےمیرا لہجہ مری آواز جدا ہے سب سےUmmeed Fazli (1923–2005)
  11. وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہےبچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
  12. ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیںیاد آنے کی طرح یاد وہ آیا بھی نہیںUmmeed Fazli (1923–2005)
  13. ہم ہیں بس اتنے ہی ساحل آشناخاک منزل جتنی منزل آشناUmmeed Fazli (1923–2005)
  14. آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیںوہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیںUmmeed Fazli (1923–2005)
  15. جانے کب طوفان بنے اور رستا رستا بچھ جائےبند بنا کر سو مت جانا دریا آخر دریا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
  16. جب سے امیدؔ گیا ہے کوئی!!لمحے صدیوں کی علامت ٹھہرےUmmeed Fazli (1923–2005)
  17. کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھیگمان تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
  18. گھر تو ایسا کہاں کا تھا لیکندر بدر ہیں تو یاد آتا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
  19. یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتےUmmeed Fazli (1923–2005)