Poetry
- آئینۂ وحشت کو جلا جس سے ملی ہےوہ گرد رہ ترک مراسم سے اٹھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہےکوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- تم ہو جو کچھ کہاں چھپاؤ گےلکھنے والو نظر تو آؤ گےUmmeed Fazli (1923–2005)
- جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اتر گیاپرچھائیں زندہ رہ گئی انسان مر گیاUmmeed Fazli (1923–2005)
- حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیںشریک عشق کہیں کوئی آرزو تو نہیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- خواب آنکھوں میں سجائے رکھناعزم کے دیپ جلائے رکھناUmmeed Fazli (1923–2005)
- کب تک اس پیاس کے صحرا میں جھلستے جائیںاب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کیکہ رات سن نہ سکے ہم بھی دھڑکنیں دل کیUmmeed Fazli (1923–2005)
- مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلےہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلےUmmeed Fazli (1923–2005)
- ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سےمیرا لہجہ مری آواز جدا ہے سب سےUmmeed Fazli (1923–2005)
- وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہےبچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیںیاد آنے کی طرح یاد وہ آیا بھی نہیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- ہم ہیں بس اتنے ہی ساحل آشناخاک منزل جتنی منزل آشناUmmeed Fazli (1923–2005)
- آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیںوہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- جانے کب طوفان بنے اور رستا رستا بچھ جائےبند بنا کر سو مت جانا دریا آخر دریا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- جب سے امیدؔ گیا ہے کوئی!!لمحے صدیوں کی علامت ٹھہرےUmmeed Fazli (1923–2005)
- کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھیگمان تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- گھر تو ایسا کہاں کا تھا لیکندر بدر ہیں تو یاد آتا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتےUmmeed Fazli (1923–2005)