Poetry
- اس کی رحمت کر رہی ہے اس کے روزے کا طوافیہ جو بچہ کر رہا ہے سوکھے ٹکڑے کا طوافTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- تلخ لہجہ جس کی فطرت ہے اسی ناری کا بوجھمیں اٹھائے پھر رہا ہوں زیست بیچاری کا بوجھTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- جو اندھیری چھت پہ خیال ہیں انہیں روشنی میں اتار لےیہ جو حسن ہے تری سوچ میں اسے شاعری میں اتار لےTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- جھوٹ کی پوشاک پر پیوند کاری کب تلکہم سے آخر یہ بتاؤ ہوشیاری کب تلکTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- قافیہ پر قافیہ حضرت رقم کرتے گئےاور غزل کے ہاتھ پیروں کو قلم کرتے گئےTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- کسی کاغذ کے سینے پر یہ جذبہ درج کر دینامرے بھائی کے حق میں میرا حصہ درج کر دیناTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- میں نے رشتوں سے نہ بڑھ کر کبھی پیسہ سمجھاتو نے پیسوں سے نہ بڑھ کر کبھی رشتہ سمجھاTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- ہمارے شہر میں گھر اس لیے سنسان رہتے ہیںکہ گھر گھر خوف سے سہمے ہوئے انسان رہتے ہیںTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)