Poetry
- آزادی کا جشن مناؤگیت خوشی کے مل کے گاؤRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- برسات کی بہارو مجھ کو نہ اب ستاؤجو خود ہی مٹ رہا ہے اس کو نہ تم مٹاؤRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گےخدایا عمر بھر رویا کریں گےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- دل مایوس بتا اے دل ناکام بتامبتلائے ستم گردش ایام بتاRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- دل ہے رنجور یہاںہے یہ دستور یہاںRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- سب نے مجھ سے کیا ہے کناراصرف تیرا ہے یا رب سہاراRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- سوزش غم کا بیاں لب پہ نہ لاؤں کیونکردرد ہے حد سے سوا دل میں چھپاؤں کیونکرRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- فٹ پاتھ پہ اک بیکس انساںتکلیف میں تڑپا کرتا ہےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- فسانۂ غم دل اب نہیں سنے جاتےشب فراق میں تارے نہیں گنے جاتےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- کیوں ٹیس سی دل میں اٹھتی ہے کیوں درد سے جی گھبراتا ہےپہلے تو نہ تھا ایسا عالم اب دل کیوں ڈوبا جاتا ہےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- گوشۂ دل میں تیرا درد چھپایا میں نےچشم تر کو بھی نہ یہ راز بتایا میں نےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- مری تصویر لے کر کیا کرو گےمری تصویر اک خواب پریشاںRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہمری راہ میں یہ ناحق کہاں آ گیا زمانہRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- دیکھی تھیں کبھی میں نے بھی برکھا کی بہاریںاب ٹوٹے ہوئے دل کو خدارا نہ دکھاؤRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- مرے لیے شب مہتاب اک قیامت ہےتم آؤ چاند ستاروں میں دل نہیں لگتاRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- ناشادؔ نہ کوئی نغمہ ہے یہ درد بھرا اک نالہ ہےکیا سمجھے کوئی درد جگر جب چوٹ نہ دل پر کھائی ہوRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- وقت اک ضرب لگائے تو غزل ہوتی ہےدرد اگر دل میں سمائے تو غزل ہوتی ہےRabia Sultana Nashad (b. 1921)