Poetry
- جگر کے خون سے تزئین بال و پر کر دیچمن اسیر نے یوں زندگی بسر کر دیRabia Barni (b. 1924)
- وہ ترا شہر ترے شہر کا ہر رنگ جدا یاد آیاآنکھ بند ہوتے ہی اک منظر تمثیل نما یاد آیاRabia Barni (b. 1924)
- ہے حسن کا اعجاز کہ اعجاز نظر کیاآنکھوں میں ہیں پوشیدہ ترے لعل و گہر کیاRabia Barni (b. 1924)
- اوروں سے الگ دنیا سے جدایکتائے زمانہ ہوں گویاRabia Barni (b. 1924)
- پھر رات کی لانبی پلکوں پرتخیل کے موتی ڈھلتے ہیںRabia Barni (b. 1924)
- تم اکثر کہتے رہتے ہوپھولوں کا کیا ہےRabia Barni (b. 1924)
- جسم پر اس کے اور جان پردین و ایمان پرRabia Barni (b. 1924)
- وہ لحن جو صدیوں صدیوں تکانسان کے دل کی دھڑکن تھاRabia Barni (b. 1924)
- زندگی بوجھ سہی بوجھ کا احساس نہ کرمنزلیں دور سہی اس کا تردد بیکارRabia Barni (b. 1924)