Poetry
- اس تیرہ سرزمیں سے مثال قمر چلودیکھو فراز نور و نشیب سفر چلوQaisar Qalandar
- اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہےمحرومی کے صدمے سہنا تیری میری عادت ہےQaisar Qalandar
- اے ہم نفسو درد کی یہ رات کڑی ہےسر تھامے ہوئے دل میں کہیں آس کھڑی ہےQaisar Qalandar
- تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہامیں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھاQaisar Qalandar
- جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میںاک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہا تنہا جینے میںQaisar Qalandar
- یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیاسرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیاQaisar Qalandar