Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بندھ جائیں سامان طنابیں کھل جائیںکاش خدا پر میری دعائیں کھل جائیںPallav Mishra (b. 1998)
  2. تمہاری دنیا کے باہر اندر بھٹک رہا ہوںمیں بعد ترک جہاں یہیں پر بھٹک رہا ہوںPallav Mishra (b. 1998)
  3. تمہیں آنسو بہانے کو بھی مل جائیں کئی کندھےمگر مجھ کو اذیت میں پریشاں کون دیکھے گاPallav Mishra (b. 1998)
  4. ثبات دل تھا مگر بیقرار ہو گیا تھاوہ نور میری حرارت سے نار ہو گیا تھاPallav Mishra (b. 1998)
  5. دنیا جہاں کے جام چھلک جائیں ریت پرکیا کیجیے کہ ہونٹ بہک جائیں ریت پرPallav Mishra (b. 1998)
  6. ڈرتے تھے اسی سبزہ آبائی سے پہلےچہرے پہ مسیں پھوٹ پڑیں کائی سے پہلےPallav Mishra (b. 1998)
  7. قریب آنے لگا وہ تو رات گہری ہوئیوہ رات ٹھہری رہی جب تلک دوپہری ہوئیPallav Mishra (b. 1998)
  8. کچھ ایسے دو جہاں سے رابطہ رکھا گیا ہےکہ ان خوابیدہ آنکھوں کو کھلا رکھا گیا ہےPallav Mishra (b. 1998)
  9. لہو میں گھل گھل کے بہہ رہے تھے رگوں کے اندرہم اپنی مٹی میں کچھ روانی بچا رہے تھےPallav Mishra (b. 1998)
  10. نہیں تھا کوئی گلہ آگ کو روانی سےہوا تھی جس نے لیا انتقام پانی سےPallav Mishra (b. 1998)
  11. وہ بار فرض تکلف مجھی کو ڈھونا پڑااسے رلانے کی خاطر مجھے بھی رونا پڑاPallav Mishra (b. 1998)
  12. آنسوؤں میں مرے کاندھے کو ڈبونے والےپوچھ تو لے کہ مرے جسم کا صحرا ہے کہاںPallav Mishra (b. 1998)
  13. ترے لبوں میں مرے یار ذائقہ نہیں ہےہزار بوسے ہیں ان پر پہ اک دعا نہیں ہےPallav Mishra (b. 1998)
  14. تمام فرق محبت میں ایک بات کے ہیںوہ اپنی ذات کا نئیں ہے ہم اس کی ذات کے ہیںPallav Mishra (b. 1998)
  15. تمام ہوش ضبط علم مصلحت کے بعد بھیپھر اک خطا میں کر گیا تھا معذرت کے بعد بھیPallav Mishra (b. 1998)
  16. شہر جاں میں وباؤں کا اک دور تھامیں ادائے تنفس میں کمزور تھاPallav Mishra (b. 1998)
  17. مکین دل کو خانما‌ں خراب سے عشق تھاقیام ڈھونڈھتا رہا تمہاری چھت کے بعد بھیPallav Mishra (b. 1998)
  18. میں اپنی موت سے خلوت میں ملنا چاہتا ہوںسو میری ناؤ میں بس میں ہوں ناخدا نہیں ہےPallav Mishra (b. 1998)
  19. وہ نشہ ہے کے زباں عقل سے کرتی ہے فریبتو مری بات کے مفہوم پہ جاتا ہے کہاںPallav Mishra (b. 1998)
  20. ہمارا کام تو موسم کا دھیان کرنا ہےاور اس کے بعد کے سب کام شش جہات کے ہیںPallav Mishra (b. 1998)
  21. یہ جسم تنگ ہے سینے میں بھی لہو کم ہےدل اب وہ پھول ہے جس میں کہ رنگ و بو کم ہےPallav Mishra (b. 1998)
  22. یہ طے ہوا تھا کہ خوب روئیں گے جب ملیں گےاب اس کے شانے پہ سر ہے تو ہنستے جا رہے ہیںPallav Mishra (b. 1998)