Poetry
- اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کےتو کہاں ہے مجھے تنہا کر کےNaseer Turabi (1945–2021)
- انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوںعیسیٰ نفس ہوں اور صلیبوں کے ساتھ ہوںNaseer Turabi (1945–2021)
- درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھاآئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھاNaseer Turabi (1945–2021)
- دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاںدیے کے گرد کوئی عکس چل رہا ہے میاںNaseer Turabi (1945–2021)
- دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتےیہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتےNaseer Turabi (1945–2021)
- رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہواگئے دنوں کی رتوں کا زیاں ثواب ہواNaseer Turabi (1945–2021)
- سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تومرے دیار سے گزری جو اے کرن پھر توNaseer Turabi (1945–2021)
- صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوایہ وار مجھ پہ ہوا بھی تو غائبانہ ہواNaseer Turabi (1945–2021)
- کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میںرات مہکی ہے مگر جی ہے نڈھال ایسے میںNaseer Turabi (1945–2021)
- مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کےجل بجھا اپنے ہی شعلوں میں بدن بھی اب کےNaseer Turabi (1945–2021)
- مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہےزندگی روز نئے زخم کی گہرائی ہےNaseer Turabi (1945–2021)
- ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتادل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتاNaseer Turabi (1945–2021)
- میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤںاس توقع پہ کہ خود سے بھی جدا ہو جاؤںNaseer Turabi (1945–2021)
- وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھیکہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھیNaseer Turabi (1945–2021)
- ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گاہم سبک ہو جائیں گے تجھ کو گراں ہو جائے گاNaseer Turabi (1945–2021)
- تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہےجو مجھی کو مجھ سے بہم کرے وہ گریز پا کوئی اور ہےNaseer Turabi (1945–2021)