Poetry
- جب کبھی اپنی تمناؤں کا گلشن دیکھامیں نے دل سوز زمانے کو بھی دشمن دیکھاNaeem Sahil (b. 1964)
- حسرت دیدۂ شب تاب لئے بیٹھے ہیںاپنی آنکھوں میں ہم اک خواب لئے بیٹھے ہیںNaeem Sahil (b. 1964)
- دنیا کہتی ہے کیا ان سنا کیجئےسامنے آئینہ رکھ لیا کیجئےNaeem Sahil (b. 1964)
- زمیں پہ جب کبھی جلوے نظر کے دیکھتے ہیںہم آسمان سے اکثر اتر کے دیکھتے ہیںNaeem Sahil (b. 1964)
- عشق جب مانگے ہے بس سادہ دلی مانگے ہےحسن بے ساختہ آشفتہ سری مانگے ہےNaeem Sahil (b. 1964)
- فضا دشوار جاں ہو تو محبت اور بڑھتی ہےکوئی جب راستہ روکے تو ہمت اور بڑھتی ہےNaeem Sahil (b. 1964)
- مٹ گیا ہوتا مگر زندہ ہوں تدبیر کے ساتھروز ہوتا ہے تماشہ مری تقدیر کے ساتھNaeem Sahil (b. 1964)