Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. جو درد جگر میں کمی ہو تو جانوںقیامت اگر ملتوی ہو تو جانوںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  2. دل مٹ گیا تو خیر ضرورت نہیں رہیحسرت یہ رہ گئی ہے کہ حسرت نہیں رہیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  3. زندگی اپنی کامیاب نہیںغم دوراں کا کچھ حساب نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  4. کون کہتا ہے غم مصیبت ہےیہ بھی مولا کی خاص رحمت ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  5. کوئی اس ظالم کو سمجھاتا نہیںوہ ستم کرنے سے باز آتا نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  6. کیوں یہ کہتے ہو کیا نہیں معلومکیا مرا مدعا نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  7. کئے قرار مگر بے قرار ہی رکھاہمیں تو آپ نے امیدوار ہی رکھاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  8. لٹ گیا دل کہاں نہیں معلومکیا ہوا ہے زیاں نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  9. لگتا نہیں کہیں بھی مرا دل ترے بغیردونوں جہاں نہیں مرے قابل ترے بغیرNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  10. مانگنا کام مجھ سوالی کابخشنا تیری ذات عالی کاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  11. مرے مٹنے پہ گر تو بھی مٹا ہوتا تو کیا ہوتاتجھے بھی صبر اے دل آ گیا ہوتا تو کیا ہوتاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  12. وہ کبھی مائل وفا نہ ہوامیرا چاہا ہوا برا نہ ہواNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  13. ہم ان کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے ہیںہمارے دل میں ہے یاد ان کی جو ہم کو دل سے بھلا چکے ہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  14. ہم دل فدا کریں کہ تصدق جگر کریںجو بھی کہیں حضور وہی عمر بھر کریںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  15. انسان کے دل کو ہی کوئی ساز نہیں ہےکس پردہ میں ورنہ تری آواز نہیں ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  16. بعد مرنے کے بھی ارمان یہی ہے اے دوستروح میری ترے آغوش محبت میں رہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  17. بھرے رہتے ہیں اشک آنکھوں میں ہر دممری ہر سانس میں اب غم کی بو ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  18. پتھروں پہ نام لکھتا ہوں ترادیکھ تو او بت مری دیوانگیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  19. پھول کھلتے ہی تتلی بھی آئیکیا کوئی دوستی پرانی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  20. تجھے دیکھا ترے جلووں کو دیکھاخدا کو دیکھ کر اب کیا کروں گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  21. جو بھی دے دے وہ کرم سے وہی لے لے نادرؔمنہ سے مانگو تو خدا اور خفا ہوتا ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  22. رحمت حق کو نہ کر مایوس اپنے فعل سےوہ بھلائی میں نہیں جو ہے برائی میں مزاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  23. کسی سے پھر میں کیا امید رکھوںمری امید تو یا رب تو ہی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  24. مطلب کا زمانہ ہے نادرؔ کوئی کیا دے گامجھ سوختۂ قسمت کو دے گا تو خدا دے گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  25. ننگ ہے راز محبت کا نمایاں ہونامر بھی جاؤں میں اگر تم نہ پریشاں ہوناNadir Shahjahanpuri (1890–1963)