Poetry
- تم ہو بزم عیش ہے واں اور صحبت داریاںہم ہیں کنج غم ہے یاں اور جان سے بیزاریاںمرزا علی لطف
- تیرے آگے یار نو یار کہن دونوں ہیں ایکزاغ زشت اور طوطئ شکر شکن دونوں ہیں ایکمرزا علی لطف
- جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئےدامن کی جا یہاں ہیں گریباں لگے ہوئےمرزا علی لطف
- خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہےاپنی بغیر دیکھے ہی حالت تباہ ہےمرزا علی لطف
- دیکھنا جن صورتوں کا شکل تھی آرام کیان سے ہیں مسدود راہیں نامہ و پیغام کیمرزا علی لطف
- سینکڑوں گل ہوئے خوش رنگ چمن میں کھل کےآخرش خاک ہوئے خاک میں سب رل مل کےمرزا علی لطف
- شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگپھونک دے سارا جہاں ہے گی وہ پروانے میں آگمرزا علی لطف
- کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیاخم مرے منہ سے لگا دے جو سبو ٹوٹ گیامرزا علی لطف
- نہ اتنا کیجے طلب گار کون آپ کا ہےیہ غیر ہے تو یہاں یار کون آپ کا ہےمرزا علی لطف
- وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھیصاف کل ساختگی اس کی ہر اک بات میں تھیمرزا علی لطف
- جو کوئی کہ آفت نہانی مانگےاور ملک عدم کی کچھ نشانی مانگےمرزا علی لطف
- دے جس کو شراب ناب پانی کا مزاکیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزامرزا علی لطف