Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. تم ہو بزم عیش ہے واں اور صحبت داریاںہم ہیں کنج غم ہے یاں اور جان سے بیزاریاںمرزا علی لطف
  2. تیرے آگے یار نو یار کہن دونوں ہیں ایکزاغ زشت اور طوطئ شکر شکن دونوں ہیں ایکمرزا علی لطف
  3. جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئےدامن کی جا یہاں ہیں گریباں لگے ہوئےمرزا علی لطف
  4. خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہےاپنی بغیر دیکھے ہی حالت تباہ ہےمرزا علی لطف
  5. دیکھنا جن صورتوں کا شکل تھی آرام کیان سے ہیں مسدود راہیں نامہ و پیغام کیمرزا علی لطف
  6. سینکڑوں گل ہوئے خوش رنگ چمن میں کھل کےآخرش خاک ہوئے خاک میں سب رل مل کےمرزا علی لطف
  7. شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگپھونک دے سارا جہاں ہے گی وہ پروانے میں آگمرزا علی لطف
  8. کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیاخم مرے منہ سے لگا دے جو سبو ٹوٹ گیامرزا علی لطف
  9. نہ اتنا کیجے طلب گار کون آپ کا ہےیہ غیر ہے تو یہاں یار کون آپ کا ہےمرزا علی لطف
  10. وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھیصاف کل ساختگی اس کی ہر اک بات میں تھیمرزا علی لطف
  11. جو کوئی کہ آفت نہانی مانگےاور ملک عدم کی کچھ نشانی مانگےمرزا علی لطف
  12. دے جس کو شراب ناب پانی کا مزاکیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزامرزا علی لطف