Poetry
- اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کاگاہ عابد ہوں خدا کا گہہ پجاری رام کامیاں داد خاں سیاح
- ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہےہم کو محرم اور رقیبوں کو عید ہےمیاں داد خاں سیاح
- جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکاپھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکامیاں داد خاں سیاح
- قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دوخوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دومیاں داد خاں سیاح
- کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہےطائر دل قفس تن میں جو گھبراتا ہےمیاں داد خاں سیاح
- نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تکمکاں ڈھونڈ آئے اس کا لا مکاں تکمیاں داد خاں سیاح
- ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاشجس طرح تھی کلیم کو دیدار کی تلاشمیاں داد خاں سیاح
- کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلاگماں ہوا مرے ویرانہ میں ہما نکلامیاں داد خاں سیاح