Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہےخدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)
  2. تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرولگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کروMah Laqa Chanda (1768–1824)
  3. دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آجکوئی دلبر بے مثال آتا ہے آجMah Laqa Chanda (1768–1824)
  4. دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوبپھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوبMah Laqa Chanda (1768–1824)
  5. رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیضدامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گہر فیضMah Laqa Chanda (1768–1824)
  6. رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظMah Laqa Chanda (1768–1824)
  7. رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزاگل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہر جاMah Laqa Chanda (1768–1824)
  8. ساقی ہے گرچہ بے شمار شرابنہیں خوش تر سوائے یار شرابMah Laqa Chanda (1768–1824)
  9. عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنامیری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھناMah Laqa Chanda (1768–1824)
  10. گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیندسر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیندMah Laqa Chanda (1768–1824)
  11. گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہےہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)
  12. نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلبرکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلبMah Laqa Chanda (1768–1824)
  13. ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخخدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخMah Laqa Chanda (1768–1824)
  14. گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالمکھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کوMah Laqa Chanda (1768–1824)
  15. ہم جو شب کو ناگہاں اس شوخ کے پالے پڑےدل تو جاتا ہی رہا اب جان کے لالے پڑےMah Laqa Chanda (1768–1824)