Poetry
- بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہےخدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)
- تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرولگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کروMah Laqa Chanda (1768–1824)
- دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آجکوئی دلبر بے مثال آتا ہے آجMah Laqa Chanda (1768–1824)
- دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوبپھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوبMah Laqa Chanda (1768–1824)
- رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیضدامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گہر فیضMah Laqa Chanda (1768–1824)
- رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظMah Laqa Chanda (1768–1824)
- رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزاگل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہر جاMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ساقی ہے گرچہ بے شمار شرابنہیں خوش تر سوائے یار شرابMah Laqa Chanda (1768–1824)
- عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنامیری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھناMah Laqa Chanda (1768–1824)
- گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیندسر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیندMah Laqa Chanda (1768–1824)
- گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہےہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)
- نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلبرکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلبMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخخدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخMah Laqa Chanda (1768–1824)
- گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالمکھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کوMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ہم جو شب کو ناگہاں اس شوخ کے پالے پڑےدل تو جاتا ہی رہا اب جان کے لالے پڑےMah Laqa Chanda (1768–1824)