Poetry
- اے حق سرشت آئنہ حق نما ہیں ہماے ابتدائے کار تری انتہا ہیں ہمM. D. Taseer (1902–1950)
- حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچےآنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچےM. D. Taseer (1902–1950)
- حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیںکچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
- داغ سینے پہ جو ہمارے ہیںگل کھلائے ہوئے تمہارے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
- شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریںکچھ تو ہیں پہلے ہی برہم اور کیا برہم کریںM. D. Taseer (1902–1950)
- لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیںخاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیںM. D. Taseer (1902–1950)
- وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہنہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہM. D. Taseer (1902–1950)
- رس بھرے ہونٹپھول سے ہلکےM. D. Taseer (1902–1950)
- سائےM. D. Taseer (1902–1950)
- غریبوں کی صداM. D. Taseer (1902–1950)
- راہروM. D. Taseer (1902–1950)
- دوراہاM. D. Taseer (1902–1950)
- لندن کی ایک شامM. D. Taseer (1902–1950)