Poetry
- آئینہ در آئینہ قد آوری کا کرب ہےگمشدہ دانش وری ہے خود سری کا کرب ہےKaleem Haider Sharar
- انا زدہ تھا کہیں پر کہیں پر آن زدہزمیں کی زد سے نکلنے تک آسمان زدہKaleem Haider Sharar
- بہت تھا ناز جن پر ہم انہیں رشتوں پہ ہنستے ہیںہمیں کیا رسم دنیا ہے کہ سب اپنوں پہ ہنستے ہیںKaleem Haider Sharar
- حقیقت ہے اسے مانیں نہ مانیں گھٹتی بڑھتی ہیںوہ جھوٹی ہوں کہ سچی داستانیں گھٹتی بڑھتی ہیںKaleem Haider Sharar
- زندہ رہنے کا بھرم آ کے کہاں پر ٹوٹااک ستارہ سا مری شہ رگ جاں پر ٹوٹاKaleem Haider Sharar
- کئی لوگوں نے پھلتے پھولتے پیڑوں سے جانا ہےمگر میں نے تجھے سبزے کی عریانی سے پہچاناKaleem Haider Sharar