Poetry
- آئنہ تھا تو جو چہرہ تھا مرا اپنا تھامجھ میں جو عکس بھی اترا تھا مرا اپنا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
- پھر ایک بار ترا تذکرہ نکل آیامجھے تراشا تو پیکر ترا نکل آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
- تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتامیں منزلیں تری دہلیز سے ملا دیتاKaifi Wijdani (b. 1932)
- جب خیمہ زنو! زور ہواؤں کا گھٹے گاخوں میری ہتھیلی کا طنابوں پہ ملے گاKaifi Wijdani (b. 1932)
- خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیاکس قدر سخت مہم تھی کہ جو سر کر آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
- خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوںجب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوںKaifi Wijdani (b. 1932)
- وہ آج لوٹ بھی آئے تو اس سے کیا ہوگااب اس نگاہ کا پتھر سے سامنا ہوگاKaifi Wijdani (b. 1932)
- وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھامیں اک چراغ کی لو سے لپٹنے والا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
- تمام شہر جسے چھوڑنے کو آیا ہےوہ شخص کتنا اکیلا سفر پہ نکلے گاKaifi Wijdani (b. 1932)