Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آئنہ تھا تو جو چہرہ تھا مرا اپنا تھامجھ میں جو عکس بھی اترا تھا مرا اپنا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
  2. پھر ایک بار ترا تذکرہ نکل آیامجھے تراشا تو پیکر ترا نکل آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
  3. تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتامیں منزلیں تری دہلیز سے ملا دیتاKaifi Wijdani (b. 1932)
  4. جب خیمہ زنو! زور ہواؤں کا گھٹے گاخوں میری ہتھیلی کا طنابوں پہ ملے گاKaifi Wijdani (b. 1932)
  5. خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیاکس قدر سخت مہم تھی کہ جو سر کر آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
  6. خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوںجب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوںKaifi Wijdani (b. 1932)
  7. وہ آج لوٹ بھی آئے تو اس سے کیا ہوگااب اس نگاہ کا پتھر سے سامنا ہوگاKaifi Wijdani (b. 1932)
  8. وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھامیں اک چراغ کی لو سے لپٹنے والا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
  9. تمام شہر جسے چھوڑنے کو آیا ہےوہ شخص کتنا اکیلا سفر پہ نکلے گاKaifi Wijdani (b. 1932)