Poetry
- طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کرہماری آنکھ کھلی ہے مقام حیرت میںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- عرصۂ ہر دو جہاں عالم تنہائی ہےکہ جدھر دیکھیے تو ہے تری یکتائی ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- گنجائش کلام کہاں خیر و شر میں ہےجب تم بشر میں ہو تو سبھی کچھ بشر میں ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- نثار اس پر نہ ہونے سے نہ تنگ آیا نہ عار آئیمرے کس کام آخر زندگئ مستعار آئیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- وہ امنگیں ہیں نہ وہ دل ہے نہ اب وہ جوش ہےحسن بار چشم ہے نغمہ وبال گوش ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہےدنیا میں کیا کسی سے محبت مجھی کو ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- گندی لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- صاف لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- اپنا خط آپ دیا ان کو مگر یہ کہہ کرخط تو پہچانئے یہ خط مجھے گمنام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- اور بھی تو ہیں زمانے میں تمہارے عاشقایک میں ہی تمہیں کیا قابل الزام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- خم سبو ساغر صراحی جام پیمانہ مرامیرے ساقی جب مرا تو ہے تو مے خانہ مراKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- دل لینے کے انداز بھی کچھ سیکھ گیا ہوںصحبت میں حسینوں کی بہت روز رہا ہوںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتاکسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- صبح کو کھل جائے گا دونوں میں کیا یارانہ ہےشمع پروانہ کی ہے یا شمع کا پروانہ ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- محبت میں کیا کیا نہ کچھ جور ہوگاابھی کیا ہوا ہے ابھی اور ہوگاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- مزا ہے ترے بسملوں کو تڑپ میںتڑپ میں نہیں بسملوں میں مزا ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھاتجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتاسمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلےاب آپ کی راہ دیکھتے ہیںKaifi Hyderabadi (1880–1920)