Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کرہماری آنکھ کھلی ہے مقام حیرت میںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  2. عرصۂ ہر دو جہاں عالم تنہائی ہےکہ جدھر دیکھیے تو ہے تری یکتائی ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  3. گنجائش کلام کہاں خیر و شر میں ہےجب تم بشر میں ہو تو سبھی کچھ بشر میں ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  4. نثار اس پر نہ ہونے سے نہ تنگ آیا نہ عار آئیمرے کس کام آخر زندگئ مستعار آئیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  5. وہ امنگیں ہیں نہ وہ دل ہے نہ اب وہ جوش ہےحسن بار چشم ہے نغمہ وبال گوش ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  6. ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہےدنیا میں کیا کسی سے محبت مجھی کو ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  7. گندی لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  8. صاف لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  9. اپنا خط آپ دیا ان کو مگر یہ کہہ کرخط تو پہچانئے یہ خط مجھے گمنام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  10. اور بھی تو ہیں زمانے میں تمہارے عاشقایک میں ہی تمہیں کیا قابل الزام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  11. خم سبو ساغر صراحی جام پیمانہ مرامیرے ساقی جب مرا تو ہے تو مے خانہ مراKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  12. دل لینے کے انداز بھی کچھ سیکھ گیا ہوںصحبت میں حسینوں کی بہت روز رہا ہوںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  13. رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتاکسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  14. صبح کو کھل جائے گا دونوں میں کیا یارانہ ہےشمع پروانہ کی ہے یا شمع کا پروانہ ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  15. محبت میں کیا کیا نہ کچھ جور ہوگاابھی کیا ہوا ہے ابھی اور ہوگاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  16. مزا ہے ترے بسملوں کو تڑپ میںتڑپ میں نہیں بسملوں میں مزا ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  17. وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھاتجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  18. وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتاسمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  19. ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلےاب آپ کی راہ دیکھتے ہیںKaifi Hyderabadi (1880–1920)