Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پلا اے گروہ سخنوراں کوئی شعر تر گل تازہ رسیہ بہار میں بھی خموشیاں نہ سر جنوں نہ پئے ہوسJafar Tahir (1917–1977)
  2. پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھارسن و دار کا عالم میں سماں ہے کہ جو تھاJafar Tahir (1917–1977)
  3. تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئےتیرے نثار تھوڑی سی برسات چاہئےJafar Tahir (1917–1977)
  4. چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویارات یاروں کو سنا کر میں کہانی رویاJafar Tahir (1917–1977)
  5. دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بھاری پتھرمارنے آئے ہیں عیسیٰ کو حواری پتھرJafar Tahir (1917–1977)
  6. عرصۂ ظلمت حیات کٹےہم نفس مسکرا کہ رات کٹےJafar Tahir (1917–1977)
  7. غم دوراں غم جاناں غم جاں ہے کہ نہیںدل ستاں سلسلۂ‌ غم زدگاں ہے کہ نہیںJafar Tahir (1917–1977)
  8. کوئے حرم سے نکلی ہے کوئے بتاں کی راہہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے کہاں کی راہJafar Tahir (1917–1977)
  9. کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئےہر بات کہاں قالب‌‌ اظہار میں آئےJafar Tahir (1917–1977)
  10. نشے میں چشم ناز جو ہنستی نظر پڑیتصویر ہوشیاری و مستی نظر پڑیJafar Tahir (1917–1977)
  11. ہر شے جہاں کی گرد و غبار خیال ہےآشوب گاہ دہر میں جینا محال ہےJafar Tahir (1917–1977)
  12. یہ اور بات کہ یہ سحر بیش و کم پہ چلاسیاہ رات کا جادو مگر نہ ہم پہ چلاJafar Tahir (1917–1977)
  13. یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتےاک غزل کہتے تو آباد کئی گھر ہوتےJafar Tahir (1917–1977)
  14. یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھےاتنا ضرور تھا کہ وہ نا گفتنی نہ تھےJafar Tahir (1917–1977)
  15. طاہرؔ خدا کی راہ میں دشواریاں سہیعشق بتاں میں کون سی آسانیاں رہیںJafar Tahir (1917–1977)