Poetry
- پلا اے گروہ سخنوراں کوئی شعر تر گل تازہ رسیہ بہار میں بھی خموشیاں نہ سر جنوں نہ پئے ہوسJafar Tahir (1917–1977)
- پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھارسن و دار کا عالم میں سماں ہے کہ جو تھاJafar Tahir (1917–1977)
- تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئےتیرے نثار تھوڑی سی برسات چاہئےJafar Tahir (1917–1977)
- چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویارات یاروں کو سنا کر میں کہانی رویاJafar Tahir (1917–1977)
- دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بھاری پتھرمارنے آئے ہیں عیسیٰ کو حواری پتھرJafar Tahir (1917–1977)
- عرصۂ ظلمت حیات کٹےہم نفس مسکرا کہ رات کٹےJafar Tahir (1917–1977)
- غم دوراں غم جاناں غم جاں ہے کہ نہیںدل ستاں سلسلۂ غم زدگاں ہے کہ نہیںJafar Tahir (1917–1977)
- کوئے حرم سے نکلی ہے کوئے بتاں کی راہہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے کہاں کی راہJafar Tahir (1917–1977)
- کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئےہر بات کہاں قالب اظہار میں آئےJafar Tahir (1917–1977)
- نشے میں چشم ناز جو ہنستی نظر پڑیتصویر ہوشیاری و مستی نظر پڑیJafar Tahir (1917–1977)
- ہر شے جہاں کی گرد و غبار خیال ہےآشوب گاہ دہر میں جینا محال ہےJafar Tahir (1917–1977)
- یہ اور بات کہ یہ سحر بیش و کم پہ چلاسیاہ رات کا جادو مگر نہ ہم پہ چلاJafar Tahir (1917–1977)
- یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتےاک غزل کہتے تو آباد کئی گھر ہوتےJafar Tahir (1917–1977)
- یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھےاتنا ضرور تھا کہ وہ نا گفتنی نہ تھےJafar Tahir (1917–1977)
- طاہرؔ خدا کی راہ میں دشواریاں سہیعشق بتاں میں کون سی آسانیاں رہیںJafar Tahir (1917–1977)