Poetry
- آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکاجیسے دو پل کے لیے صبح کا اختر چمکاHafiz Ludhiyanvi
- جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہےلبوں سے نغمہ صل علی نکلتا ہےHafiz Ludhiyanvi
- شعلۂ درد بعنوان تجلا ہی سہیلطف دیوانگی و ذوق تماشا ہی سہیHafiz Ludhiyanvi
- وہ قریۂ مہتاب رہے صبح و مسا یادکچھ بھی نہ رہے شہر تمنا کے سوا یادHafiz Ludhiyanvi
- ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہےتجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہےHafiz Ludhiyanvi
- ہے وجہہ سکون دل آشفتہ نوا بھیوہ آنکھ کہ ہے فتنۂ صد ہوشربا بھیHafiz Ludhiyanvi
- یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیںیہ خامشی بھی عرض تمنا سے کم نہیںHafiz Ludhiyanvi