Poetry
- جب حسینوں کی تصاویر کتابوں میں ملیںکورے کاغذ ہی سوالوں کے جوابوں میں ملیںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاںجانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلےارادوں میں ہمارے جانے کتنے پیچ و خم نکلےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- مری مشق سخن کا جب ہوا ان پر اثر زیادہمہربانی ہے ان کی مجھ پہ کم اور ہے قہر زیادہGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- ہے یہی دستور دنیا اور یہی دیکھا گیاپھول سے خوشبو نکلتے ہی اسے پھینکا گیاGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کوتم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)