Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. جب حسینوں کی تصاویر کتابوں میں ملیںکورے کاغذ ہی سوالوں کے جوابوں میں ملیںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  2. چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاںجانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  3. لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلےارادوں میں ہمارے جانے کتنے پیچ و خم نکلےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  4. مری مشق سخن کا جب ہوا ان پر اثر زیادہمہربانی ہے ان کی مجھ پہ کم اور ہے قہر زیادہGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  5. ہے یہی دستور دنیا اور یہی دیکھا گیاپھول سے خوشبو نکلتے ہی اسے پھینکا گیاGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  6. چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کوتم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)