Poetry
- اب تو وہ بھی مجھ کو تلقین شکیبائی کرےکوئی کس سے شکوۂ آشوب تنہائی کرےGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- اپنے ماضی کی طرح اب بھی درخشندہ ہوںنازش حال ہوں صورت گر آئندہ ہوںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- تم آ گئے جو یہاں رات کے اندھیرے میںہیں چاندنی کا سماں رات کے اندھیرے میںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- رنگیں نظراں لالہ رخاں یوں تو بہت ہیںمسحور نگاہ و دل و جاں یوں تو بہت ہیںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- نفس آرزو ہے شعلہ طرازسوز احساس تیری عمر درازGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- وہ تیرے التفات کا موسم گزر گیااچھا ہوا یہ بوجھ بھی سر سے اتر گیاGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- وہ کیوں مغموم و دل برداشتہ ہیںیہ سارے زخم تو خود ساختہ ہیںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- ہے مرے دل میں ہر اک زخم گلستاں جیسےآ گئی راس ہوائے غم جاناں جیسےGhani Ahmad Ghani (b. 1937)