Poetry
- اری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوامیرے پیار کا تھا جو کارواں وہ رکا جہاں تھا لٹا ہواChhabi Saksena Sahai Saba
- بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیامرے ساتھ جو بھی رفاقتیں تھیں سبھی سے پردہ ہٹا دیاChhabi Saksena Sahai Saba
- تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلےجیسے امید کے جگنو کے ٹھکانے نکلےChhabi Saksena Sahai Saba
- کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں ابخاموش ہے بونڈر بولو میں کیا کروں ابChhabi Saksena Sahai Saba
- کھل اٹھے ہیں زخم پھولوں کی طرحکوئی آیا ہے بہاروں کی طرحChhabi Saksena Sahai Saba
- میں ہوں نا مراد وفائے غم نہ تو میں نصیب بہار ہوںجو نہ کھل سکے وہی گل ہوں میں کہ چمن کا میں وہ فگار ہوںChhabi Saksena Sahai Saba
- یہ خواب مرے کانچ کے ان کو ہے بکھرنااو جگنو مری آنکھ کے کچھ دیر چمکناChhabi Saksena Sahai Saba