Poetry
- ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیادرد پہلو میں جہاں بھی تھا وہیں دل ہو گیاباسط بھوپالی
- جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہےسب تیری کہانی ہے سب میرا فسانا ہےباسط بھوپالی
- حیات و موت کا اک سلسلا ہےمحبت انتہا تک ابتدا ہےباسط بھوپالی
- سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئےبیٹھا ہوں دل میں عشق کی محفل لئے ہوئےباسط بھوپالی
- عشق ستم پرست کیا حسن ستم شعار کیاہم بھی انہیں کے ہیں تو پھر اپنا بھی اعتبار کیاباسط بھوپالی
- کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کاشمع نے لوٹ لیا سوز بھی پروانے کاباسط بھوپالی
- کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتاوہ رہ گزر ہوں جسے کارواں نہیں ملتاباسط بھوپالی
- کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعدہر طرف عام ہیں خاصان وفا میرے بعدباسط بھوپالی
- میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائےوہ گل تر وہ فضائے شبنمستاں ہائے ہائےباسط بھوپالی
- نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والےتمہیں کب دیکھتے ہیں کفر و ایماں دیکھنے والےباسط بھوپالی
- وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریںتیرا بھی اب خیال نہ آئے تو کیا کریںباسط بھوپالی
- ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہےمطمئن شمع ہے یا رقص میں پروانہ ہےباسط بھوپالی
- شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیاعذر نگاہ دوست نے جرم نظر سکھا دیاباسط بھوپالی
- محبت کی انتہا چاہتا ہوںانہیں حاصل ابتدا چاہتا ہوںباسط بھوپالی