Poetry
- اگرچہ دل کو لے ساتھ اپنے آیا اشک مرانگاہ میں تری ہرگز نہ بھایا اشک مراباقر آگاہ ویلوری
- دل کو لے جی کو اب لبھاتے ہواس لیے بن بنا کے آتے ہوباقر آگاہ ویلوری
- رہتا ہے زلف یار مرے من سے من لگااے ناگ ترے ہاتھ یہ کیا خوب من لگاباقر آگاہ ویلوری
- زخم اس سوکے کی کاری ہے خدا خیر کرےلوہو سیلاب سا جاری ہے خدا خیر کرےباقر آگاہ ویلوری
- شاہد غیب ہویدا نہ ہوا تھا سو ہواحسن پر آپ نے شیدا نہ ہوا تھا سو ہواباقر آگاہ ویلوری
- کیوں کر نہ ایسے جینے سے یا رب ملول ہوںجب اس طرح عدم کا بھی میں ناقبول ہوںباقر آگاہ ویلوری
- محو فریاد ہو گیا ہے دلآہ برباد ہو گیا ہے دلباقر آگاہ ویلوری
- نہیں ہے اشک سے یہ خون ناب آنکھوں میںبھرا ہے رنگ سے تیرے شہاب آنکھوں میںباقر آگاہ ویلوری
- دل میں دل دار نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھاادھر ادھر میں دواں تھا مجھے معلوم نہ تھاباقر آگاہ ویلوری
- لب جاں بخش کے میٹھے کا تیرے جو مزہ پایاتو چشمہ زندگی کا اپنی لبریز بقا پایاباقر آگاہ ویلوری