Poetry
- اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہےورنہ دل کا آئینہ کب سے پارہ پارہ ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- بقعۂ نور ہر اک راہ گزر ہو جائےوہ مری رات سے گزرے تو سحر ہو جائےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- تری محفل سے جو اٹھ جائیں گے مہر و وفا والےتو پوچھے گا تجھے پھر کون اے جور و جفا والےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- سحر یہ ندی ہے آنسوؤں کی نہ پوچھ اس کا بہاؤ پیارےکہ اس کے طوفان موج غم میں بچے گی کیا دل کی ناؤ پیارےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- سینے میں ارمان کی گنگا آنکھوں میں جمنا کا ہے جللیکن دل کے تاج محل میں کوئی نہیں ممتاز محلBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- شراب ارغوانی خم میں رکھی تھی نہ مینے میںیہ کس کا خون ہے ساقی بتا اس آبگینے میںBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- ضرب تازہ کاری ہے حادثہ پرانا ہےسنگ نو کے نرغے میں پھر وہی دوانہ ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتےمکین دل مکاں کو اس طرح ڈھایا نہیں کرتےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہواس دل کی طرح تم بھی مری جان لگو ہوBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- مری خطا سے بڑی تیری درگزر ہوگیتو پھر دعا مری کاہے کو بے اثر ہوگیBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- مرے درد کی کہانی ترے جور کا فسانہہے لہو ترنگ نغمہ یہ نشاط گیں ترانہBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- مرے ہر نفس میں بسا ہے تو مرے فکر و فن میں قیام ہےکہ کتاب دل کے ورق ورق میں لکھا ہوا ترا نام ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- مسام سنگ سے اس دم پسینے خوں کے چلتے ہیںکفن بردوش جب ہم کوئے قاتل میں نکلتے ہیںBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- ہو پیاس سلامت مئے گلفام بہت ہےمے خانہ بہت ساقی بہت جام بہت ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- یہ میرا شیشۂ دل بے مثال ہے پیارےدکھائی دے ہے کہاں جتنا بال ہے پیارےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)