Poetry
- اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننامجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بنناAamir Suhail (b. 1977)
- ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہےہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہےAamir Suhail (b. 1977)
- اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہےمٹھی میں جہاں پاؤں میں زنجیر عجب ہےAamir Suhail (b. 1977)
- اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہواجس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہواAamir Suhail (b. 1977)
- دل یار کا تخت ہوا ہی نہیںجیون خوش بخت ہوا ہی نہیںAamir Suhail (b. 1977)
- رستے میں عجب آثار ملےجوں کوئی پرانا یار ملےAamir Suhail (b. 1977)
- سبز حکایت سرخ کہانیتیرے آنچل کی مہمانیAamir Suhail (b. 1977)
- سر کو آواز سے وحشت ہی سہیاور وحشت میں اذیت ہی سہیAamir Suhail (b. 1977)
- سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میںالجھنیں کتنی ہیں اس عشق کی آسانی میںAamir Suhail (b. 1977)
- کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہوکسی بھی اپسرا سے گفتگو نہ ہوAamir Suhail (b. 1977)
- کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنےحرم سرا سے بلایا ہمیں وطن اپنےAamir Suhail (b. 1977)
- گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحابہٹا دیے ہیں زمان و مکاں کے ہم نے حجابAamir Suhail (b. 1977)
- لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سےکسی دشا میں اچھالا نہیں گیا مجھ سےAamir Suhail (b. 1977)
- لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیںچراغ بام سے جس کو اتر کے دیکھتے ہیںAamir Suhail (b. 1977)
- مٹی کی صراحی ہےپانی کی گواہی ہےAamir Suhail (b. 1977)
- یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیںکعبۂ عشق نہیں روضہ یک خواب نہیںAamir Suhail (b. 1977)
- پرانے بوٹ ہیں تسمے کھلے ہیںابھی مٹی کے چہرے ان دھلے ہیںAamir Suhail (b. 1977)