Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننامجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بنناAamir Suhail (b. 1977)
  2. ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہےہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہےAamir Suhail (b. 1977)
  3. اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہےمٹھی میں جہاں پاؤں میں زنجیر عجب ہےAamir Suhail (b. 1977)
  4. اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہواجس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہواAamir Suhail (b. 1977)
  5. دل یار کا تخت ہوا ہی نہیںجیون خوش بخت ہوا ہی نہیںAamir Suhail (b. 1977)
  6. رستے میں عجب آثار ملےجوں کوئی پرانا یار ملےAamir Suhail (b. 1977)
  7. سبز حکایت سرخ کہانیتیرے آنچل کی مہمانیAamir Suhail (b. 1977)
  8. سر کو آواز سے وحشت ہی سہیاور وحشت میں اذیت ہی سہیAamir Suhail (b. 1977)
  9. سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میںالجھنیں کتنی ہیں اس عشق کی آسانی میںAamir Suhail (b. 1977)
  10. کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہوکسی بھی اپسرا سے گفتگو نہ ہوAamir Suhail (b. 1977)
  11. کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنےحرم سرا سے بلایا ہمیں وطن اپنےAamir Suhail (b. 1977)
  12. گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحابہٹا دیے ہیں زمان و مکاں کے ہم نے حجابAamir Suhail (b. 1977)
  13. لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سےکسی دشا میں اچھالا نہیں گیا مجھ سےAamir Suhail (b. 1977)
  14. لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیںچراغ بام سے جس کو اتر کے دیکھتے ہیںAamir Suhail (b. 1977)
  15. مٹی کی صراحی ہےپانی کی گواہی ہےAamir Suhail (b. 1977)
  16. یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیںکعبۂ عشق نہیں روضہ یک خواب نہیںAamir Suhail (b. 1977)
  17. پرانے بوٹ ہیں تسمے کھلے ہیںابھی مٹی کے چہرے ان دھلے ہیںAamir Suhail (b. 1977)