Poetry
- بہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہےبیاباں میں کبھی گھر ہے کبھی گھر میں بیاباں ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
- تجھ کو دیکھے اک زمانہ ہو گیازہر اب تو آب و دانہ ہو گیاAali Gopalpuri (1912–1980)
- زندگی اک درد و غم کا ساز ہےموت جس کی آخری آواز ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
- کبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچےنہ فنا سے آشنا ہو تو دوام تک نہ پہنچےAali Gopalpuri (1912–1980)
- لگا کے دل کبھی آنسو بھی ہم بہا نہ سکےلگی جو آگ جگر میں اسے بجھا نہ سکےAali Gopalpuri (1912–1980)
- مل گئی درد کی دوا دل کورکھے اللہ میرے قاتل کوAali Gopalpuri (1912–1980)
- نظر دیکھتے ہیں جگر دیکھتے ہیںتجھے ہر طرف جلوہ گر دیکھتے ہیںAali Gopalpuri (1912–1980)
- نہیں مجھ کو حسرت ماسوا پس اب اس کی یاد سے کام ہےنہ وہ اب شباب کے ولولے نہ خیال شیشہ و جام ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
- ہجوم غم جاوداں ہو رہا ہےمرے صبر کا امتحاں ہو رہا ہےAali Gopalpuri (1912–1980)