Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہےبیاباں میں کبھی گھر ہے کبھی گھر میں بیاباں ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  2. تجھ کو دیکھے اک زمانہ ہو گیازہر اب تو آب و دانہ ہو گیاAali Gopalpuri (1912–1980)
  3. زندگی اک درد و غم کا ساز ہےموت جس کی آخری آواز ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  4. کبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچےنہ فنا سے آشنا ہو تو دوام تک نہ پہنچےAali Gopalpuri (1912–1980)
  5. لگا کے دل کبھی آنسو بھی ہم بہا نہ سکےلگی جو آگ جگر میں اسے بجھا نہ سکےAali Gopalpuri (1912–1980)
  6. مل گئی درد کی دوا دل کورکھے اللہ میرے قاتل کوAali Gopalpuri (1912–1980)
  7. نظر دیکھتے ہیں جگر دیکھتے ہیںتجھے ہر طرف جلوہ گر دیکھتے ہیںAali Gopalpuri (1912–1980)
  8. نہیں مجھ کو حسرت ماسوا پس اب اس کی یاد سے کام ہےنہ وہ اب شباب کے ولولے نہ خیال شیشہ و جام ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  9. ہجوم غم جاوداں ہو رہا ہےمرے صبر کا امتحاں ہو رہا ہےAali Gopalpuri (1912–1980)