Poetry
- پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذتجو کچھ کہ میں پاتا ہوں ترے نام سے لذتآفتاب شاہ عالم ثانی
- جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیںتیر سی دل کے پار ہوتی ہیںآفتاب شاہ عالم ثانی
- دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیںجوں مار ڈستی ہیں دل دلبر کی کالی زلفیںآفتاب شاہ عالم ثانی
- عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میںکر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میںآفتاب شاہ عالم ثانی
- کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کروکل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کروآفتاب شاہ عالم ثانی
- کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپناپڑھے گر صد ہزار افسوں نہ ہوگا باغباں اپناآفتاب شاہ عالم ثانی
- گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالیتس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالیآفتاب شاہ عالم ثانی
- گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیاجی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیاآفتاب شاہ عالم ثانی
- میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگےیہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگےآفتاب شاہ عالم ثانی