Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائےیہ وہ نہیں جو کسی رہ گزر کا ہو جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
  2. یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہےاس ایک بات پہ دنیا سے جنگ جاری ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  3. دیر سے ایک ناسمجھ بچہاک کھلونے کے ٹوٹ جانے پرWaseem Barelvi (b. 1940)
  4. دیوالی کی رات آئی ہے تم دیپ جلائے بیٹھی ہومعصوم امنگوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوWaseem Barelvi (b. 1940)
  5. شہر میرا اداس گنگا ساکوئی بھی آئے اور اپنے پاپWaseem Barelvi (b. 1940)
  6. کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھےآج بھی میرے درد کا درماں کوئی نہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  7. میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہواپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئیWaseem Barelvi (b. 1940)
  8. میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرااجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سےWaseem Barelvi (b. 1940)
  9. میں تم سے چھوٹ رہا ہوں مرے پیارومگر مرا رشتہ پختہ ہو رہا ہے اس زمیں سےWaseem Barelvi (b. 1940)
  10. میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہےرات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کاWaseem Barelvi (b. 1940)
  11. وقت کے تیز گام دریا میںتو کسی موج کی طرح ابھریWaseem Barelvi (b. 1940)
  12. یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کوWaseem Barelvi (b. 1940)
  13. آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہےبھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  14. اسی خیال سے پلکوں پہ رک گئے آنسوتری نگاہ کو شاید ثبوت غم نہ ملےWaseem Barelvi (b. 1940)
  15. ان سے کہہ دو مجھے خاموش ہی رہنے دے وسیمؔلب پہ آئے گی تو ہر بات گراں گزرے گیWaseem Barelvi (b. 1940)
  16. بہت سے خواب دیکھو گے تو آنکھیںتمہارا ساتھ دینا چھوڑ دیں گیWaseem Barelvi (b. 1940)
  17. پھول تو پھول ہیں آنکھوں سے گھرے رہتے ہیںکانٹے بیکار حفاظت میں لگے رہتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  18. تجھے پانے کی کوشش میں کچھ اتنا کھو چکا ہوں میںکہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگاWaseem Barelvi (b. 1940)
  19. تم میری طرف دیکھنا چھوڑو تو بتاؤںہر شخص تمہاری ہی طرف دیکھ رہا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  20. جھوٹ کے آگے پیچھے دریا چلتے ہیںسچ بولا تو پیاسا مارا جائے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
  21. رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گیدیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  22. سبھی رشتے گلابوں کی طرح خوشبو نہیں دیتےکچھ ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو کانٹے چھوڑ جاتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  23. غم اور ہوتا سن کے گر آتے نہ وہ وسیمؔاچھا ہے میرے حال کی ان کو خبر نہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  24. کچھ ہے کہ جو گھر دے نہیں پاتا ہے کسی کوورنہ کوئی ایسے تو سفر میں نہیں رہتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  25. کسی سے کوئی بھی امید رکھنا چھوڑ کر دیکھوتو یہ رشتہ نبھانا کس قدر آسان ہو جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
  26. کوئی اشارہ دلاسا نہ کوئی وعدہ مگرجب آئی شام ترا انتظار کرنے لگےWaseem Barelvi (b. 1940)
  27. مجھے پڑھتا کوئی تو کیسے پڑھتامرے چہرے پہ تم لکھے ہوئے تھےWaseem Barelvi (b. 1940)
  28. محبت میں بچھڑنے کا ہنر سب کو نہیں آتاکسی کو چھوڑنا ہو تو ملاقاتیں بڑی کرناWaseem Barelvi (b. 1940)
  29. مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہےکہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتےWaseem Barelvi (b. 1940)
  30. میں اس کو آنسوؤں سے لکھ رہا ہوںکہ میرے بعد کوئی پڑھ نہ پائےWaseem Barelvi (b. 1940)
  31. میں بولتا گیا ہوں وہ سنتا رہا خاموشایسے بھی میری ہار ہوئی ہے کبھی کبھیWaseem Barelvi (b. 1940)
  32. میں جن دنوں ترے بارے میں سوچتا ہوں بہتانہیں دنوں تو یہ دنیا سمجھ میں آتی ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  33. میں نے چاہا ہے تجھے عام سے انساں کی طرحتو مرا خواب نہیں ہے جو بکھر جائے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
  34. نہ پانے سے کسی کے ہے نہ کچھ کھونے سے مطلب ہےیہ دنیا ہے اسے تو کچھ نہ کچھ ہونے سے مطلب ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  35. وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سےمیں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  36. وہ دن گئے کہ محبت تھی جان کی بازیکسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  37. ہر شخص دوڑتا ہے یہاں بھیڑ کی طرفپھر یہ بھی چاہتا ہے اسے راستا ملےWaseem Barelvi (b. 1940)
  38. ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ہم تجھ سے بڑے ہیںلیکن یہ بہت ہے کہ ترے ساتھ کھڑے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)