Poetry
- ہجوم رنج و الم ہے یہ نیم جاں کے لیےجفا وہ کرتے ہیں عاشق پہ امتحاں کے لیےجمیلہ خدا بخش
- ہوئی سرگشتہ خاک اپنی غبار کارواں ہو کرمجھے قسمت ستاتی ہے رقیب کامراں ہو کرجمیلہ خدا بخش
- یار کہتا ہے تجلئ لقا تھی میں نہ تھاطور سینا پر وہی جلوہ نما تھی میں نہ تھاجمیلہ خدا بخش
- اٹھا کر ناز سے برقع دکھا کر روئے زیبا کوتماشا کر دیا دلبر نے مجھ محو تماشا کوجمیلہ خدا بخش
- اس دل کی عمارت میں تم جلوہ دکھا جانایا نور مبیں بن کر آنکھوں میں سما جاناجمیلہ خدا بخش
- تمہارے دیکھنے کو حسرت حیرت فزا ٹھہریدل محزوں سے نکلی دیدۂ بسمل میں آ ٹھہریجمیلہ خدا بخش
- چھپ کے غیروں سے دل میں آ جانااے صنم رخ مجھے دکھا جاناجمیلہ خدا بخش