Poetry
- گماں کی حد سے گزر کر یقیں کی حد میں آئےوہ آسمان اگر ہے زمیں کی حد میں آئےZafar Kamali (b. 1959)
- گھر میں رہتا ہوں تو پاؤں میں سفر جاگتا ہےجیسے آغوش میں دریا کے بھنور جاگتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
- نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہےنفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہےZafar Kamali (b. 1959)
- ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہےمرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
- آتا ہے یاد مجھ کو اسکول کا زماناوہ دوستوں کی صحبت وہ قہقہے لگاناZafar Kamali (b. 1959)
- سمجھتا ہے اسے سارا زمانہکتابیں علم و حکمت کا خزانہZafar Kamali (b. 1959)
- کر دیں گے ہم اس پر اپنا تن من دھن قربانسب سے اچھا سب سے نیارا پیارا ہندوستانZafar Kamali (b. 1959)
- کسی کوے نے اک کوئل سے پوچھابتا بہنا کہ ہے یہ ماجرا کیاZafar Kamali (b. 1959)
- گرچہ پودا ابھی ہوں چھوٹا ساآرزو دل میں ہے مرے کیا کیاZafar Kamali (b. 1959)
- منی بولی پیاری آشاکتنی بھولی میری گڑیاZafar Kamali (b. 1959)
- ہم کو ہے فخر اس پر ہم ہیں شریر بچےماہر ہیں اپنے فن میں ہم بے نظیر بچےZafar Kamali (b. 1959)
- یہ موسم ہے امنگوں کا ترنگوں کا زمانہ ہےچمن کے پھول ہیں ہم کام اپنا مسکرانا ہےZafar Kamali (b. 1959)
- اس زمانے کی عجب تشنہ لبی ہے اے ظفرؔپیاس اس کی صرف بجھتی ہے ہمارے خون سےZafar Kamali (b. 1959)
- نگاہوں میں جو منظر ہو وہی سب کچھ نہیں ہوتابہت کچھ اور بھی پیارے پس دیوار ہوتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
- وہی سلوک زمانے نے میرے ساتھ کیاکیا تھا جیسا مشرف نے بے نظیر کے ساتھZafar Kamali (b. 1959)