Poetry
- الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھےاور سانپ بیٹھا ہے سائبان کے پیچھےYaqoob Yawar (b. 1952)
- جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گاگئے دنوں کے بعد عہد حال بھی نہ آئے گاYaqoob Yawar (b. 1952)
- روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھیپھر بھی سورج سے مری ہم سفری رہنا تھیYaqoob Yawar (b. 1952)
- سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوںتمہاری دید کا کوئی نیا منظر نکالوںYaqoob Yawar (b. 1952)
- شہر سخن عجیب ہو گیا ہےناقد یہاں ادیب ہو گیا ہےYaqoob Yawar (b. 1952)
- لرزاں ترساں منظر چپآرمیدہ گھر گھر چپYaqoob Yawar (b. 1952)
- مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئیسحر تو ہو نہ سکی اور پھر سے شام ہوئیYaqoob Yawar (b. 1952)
- مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیاارتقا نے زندگی کا زخم گہرا کر دیاYaqoob Yawar (b. 1952)
- ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیےسفر میں تھے سفر کا اعتبار لے کے چل دیےYaqoob Yawar (b. 1952)