Poetry
- اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گایہ راہ عشق مرا حوصلہ ہی طے کرے گاTahseen Firaqi (b. 1950)
- بہت سے سیل حوادث کی زد پہ بہہ گئے ہیںیہ چند ایک درختان سبز رہ گئے ہیںTahseen Firaqi (b. 1950)
- تری گلی میں گئے کتنے ماہ و سال ہوئےگزر گئے کئی موسم ہمیں بحال ہوئےTahseen Firaqi (b. 1950)
- چمن اتنا خزاں آثار پہلے کب ہوا تھابلا کا قحط برگ و بار پہلے کب ہوا تھاTahseen Firaqi (b. 1950)
- مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہےحادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہےTahseen Firaqi (b. 1950)
- مہ و انجم نے قبا کی تو تمہارے لیے کیچاند چہروں پہ ردا کی تو تمہارے لیے کیTahseen Firaqi (b. 1950)
- میں ہر ایک بات کہاں کہاں نہیں بھولتامگر ایک شام فراق جاں نہیں بھولتاTahseen Firaqi (b. 1950)
- خبر وحشت اثر تھیاسے ایسے لگاTahseen Firaqi (b. 1950)
- مری خلوت کے ہالے میں تمہارا یہ طلسماتی بدناک نور میں ڈوبا ہوا بہتا ہوا دھاراTahseen Firaqi (b. 1950)
- ہمارے ذہن کی اس عرش پیمائی کے کیا کہنےہم اپنے ذہن کے بارے میں جب بھی سوچتے ہیںTahseen Firaqi (b. 1950)